سال کے آخر تک 8 سے 15 افراد اپوزیشن کو چھوڑ جائیں گے، شیخ رشید

وزیر ریلوے شیخ رسید کا کہنا ہے کہ رواں سال کے اختتام تک مسلم لیگ (ن) میں سے (ش) نکل جائے گا اور 31 دسمبر سے قبل 8 سے 15 افراد اپوزیشن چھوڑ کر چلے جائیں گے۔

بہاولپور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’اپوزیشن کو جلسہ کرنے کی اجازت مل گئی ہے، کوئی کہہ رہا ہے ہم دسمبر میں اور کوئی جنوری میں جانے کا کہہ رہا ہے ان کو کہنا چاہوں گا کہ ہم پکے 5 سال کے لیے آئے ہیں‘۔

انہوں نے اہوزیشن میں سے لوگوں کے نکلنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ’رواں سال کے آخر تک جھاڑو پھر جائے گی، شاہد خاقان عباسی کے چہرے پر نور دیکھ رہا ہوں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے نواز شریف کہتے تھے کہ بے نظیر قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں اور اب انہوں نے اتحاد کرلیا ہے یہ بھی اچھی بات ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ’دوسری جانب آصف زرداری کو معلوم ہے کہ جیل کب جانا ہے، ہسپتال کب جانا ہے اور گھر کب جانا ہے، انہوں نے ان کیسز کے بارے میں ماسٹرز کی ڈگری کر رکھی ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کو اقتدار چھوڑنا پڑ جائے تو بھی وہ انہیں نہیں چھوڑے گا اور جیلوں میں بھیج کر رہے گا، عمران خان کرپٹ حکمرانوں کے خلاف جہاد کر رہے ہیں۔
انہوں نے اپوزیشن جماعتوں کے جلسے پر کہا کہ ’جلسہ کریں مگر پاک فوج کے خلاف بات کی تو ان کی زبان کھینچ لی جائے گی‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اس ملک کے خلاف بین الاقوامی سازش کی جارہی ہے، خود لندن میں بیٹھے ہیں اور عوام کو کہتے ہیں کہ سڑکوں پر نکلا جائے‘۔

ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے بارے میں بات کرتے ہوئے شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ’مہنگائی کی اصل وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اس ملک کو بری طرح لوٹا ہے، ہمارے پاس آخری سال ہے جس میں ہم نے مہنگائی کو کم کرنا ہے‘۔

جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے رواں سال کے آخر تک حکومت کے خاتمے کے دعوے پر ان کا کہنا تھا کہ ’مولانا فضل الرحمٰن صاحب دسمبر دیکھ رہے ہیں میں مارچ میں عمران خان کو سینیٹ کے ٹکٹ تقسیم کرتے دیکھ رہا ہوں‘۔

پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی گرفتاری کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ’میں غریب اور چھوٹے ورکرز کی گرفتاری کے خلاف ہوں اور مطالبہ کرتا ہوں کہ ان تمام ورکرز کو رہا کیا جائے‘۔

ریلوے میں اضافی عملے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’ریلوے کا عملہ بہت زیادہ ہیں تاہم جب تک وزیر ہوں کسی کو نکالوں گا نہیں‘۔ قبل ازیں انہوں نے اعلان کیا تھا کہ تمام اسٹیشنز اور ملازمین کو بحال کیا جارہا ہے اور ساتھ ساتھ شالیمار کو ملتان کا اسٹاپ بھی دے دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’7 ہزار 600 روپے ایئرلائنز اور 7 ہزار 500 ٹرین کا ٹکٹ ہے تاہم ہم خسارے کی وجہ سے ٹرینوں کا کرایہ کم نہیں کرسکتے‘۔