نیو یارک میں ’روز ویلٹ ہوٹل‘ آسیب زدہ ہونے کا انکشاف ہوٹل کا کونسا کمرہ تاحال بھوتوں سے خالی نہیں کرایا جا سکا؟

نیویارک(نیوزڈسک) پی آئی اے انویسٹمنٹ کی ملکیت نیو یارک کے مشہور ہوٹل روز ویلٹ کے ایک کمرے پر روحوں اور بھوتوں کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق پی آئی اے کی جانب سے گزشتہ کئی سال سے ہرسال تمام اخراجات ٹیکس انتظامی اخراجات اور تمام تر مالیاتی بےقاعدگیوں کے باوجود کئی ملین سالانہ منافع دینے والے ڈیڑھ ارب ڈالرز کی مالیت کے اس ہوٹل کو 31؍اکتوبر سے مستقل بند کرنے کا فیصلہ کیا جا چکا ہے لیکن ہوٹل کے کمرہ نمبر 1408 کو بھوتوں سے خالی کرانے کیلئے تاحال کوئی اقدام نہیں کیا۔

مارچ 2019 میں ایک غیر پاکستانی گیسٹ نے اپنے دوستوں کے ساتھ روز ویلٹ ہوٹل کے کمرہ نمبر 1408 میں قیام کیا، قیام کے بعد روزویلٹ ہوٹل کے اس مہمان نے اپنے تجربہ کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے ’’ٹرپ ایڈوائزر‘‘ نامی ایک ویب سائٹ پر لکھاہے کہ روز ویلٹ ہوٹل کے اس کمرے میں داخل ہوتے وقت ہی عجیب احساس ہوا جسے میں اور میرے ساتھی نے نظر انداز کردیا۔پھر جب میں غسل خانہ میں گیا تو ٹب کے ساتھ لگے کرٹن کو خود بخود اکٹھا ہوتے دیکھ کر خوف زدہ ہو گیا لیکن خود پر قابو پاتے ہوئے اسے محض وہم قرار دیدیا۔

میں نے غسل کرکے باہر آکر اپنے دوست سے واقعہ بیان کیاتو وہ بھی پریشان ہوگیا ہم نے ہوٹل صرف دو روز کیلئے بک کیا تھا اور ہم نے ہوٹل تبدیل کرنے کیلئے بڑی کوشش بھی کی لیکن نیو یارک کے دیگر ہوٹلوں میں جگہ نہ ملی لہٰذا ہم نے دو دن تک روزویلٹ ہوٹل کے اس کمرے میں مجبوراً قیام اور مشاہدات کے بعد واپس آنےکے بعد جب آسیب زدہ جگہوں کے بارے میں ریسرچ کی تو ہمارے خوف کی تصدیق ہوگئی، ہمارے دو روز کے مشاہدات اس کاثبوت ہیں کہ یہ کمرہ آسیب زدہ اور بھوتوں کابسیرا ہے۔

اس مہمان کے مشاہدے کا بیان آج ھی ویب سائٹ پر موجود ہے جبکہ اس بیان کے جواب میں روز ویلٹ ہوٹل کی گیسٹ ریلیشنز کی ذمہ دار خاتون کرسٹینا نے 31اکتوبر 2019 کولکھا کہ ہم نے اپنے اس روز ویلٹ ہوٹل نیو یارک کے بارےمیں آسیب زدہ ہونے کا نہیں سنا البتہ ہالی ووڈ میں واقع اسی نام کے روزویلٹ ہوٹل کے بارے میں آسیب زدہ ہونے کی متعدد کہانیاں ضرور سنی ہیں اور ہالی ووڈ کے روزویلٹ ہوٹل سے ہماراکوئی تعلق نہیں، روز ویلٹ ہوٹل نیویارک کےکمراہ نمبر 1408 کی خصوصیت یہ ہےکہ اس کمرے میں متعدد پاکستانی مرحوم اور حیات شخصیات نے بھی قیام کیاہے۔

جن میں آزاد کشمیر کے صدر سردارعبدالقیوم (مرحوم)، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، سابق وزیر خارجہ سرتاج عزیز سمیت کئی درجن پاکستانی شخصیات شامل ہیں۔سابق صدر پرویز مشرف اپنے دورہ نیو یارک میں اسی روز ویلٹ ہوٹل میں قیام کرتےتھے۔ یہی کمرہ اُن کے معاونین اور مشیروں کے تصرف میں رہتا۔ وزیراعظم عمران خان کے دورہ اقوام متحدہ کے دوران بھی یہ کمرہ اُن کے معاونین کےتصرف میں رہا، ایک پاکستانی امریکی نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اب ہوٹل کو بند کرتےہوئے اس ہوٹل میں قیام کرنے والےبھوتوں کو نکالنے کا اقدام کرنا ہو گا۔