امارات میں ڈیوٹی کے دوران مرنے والوں کے لواحقین کو 2 سال کی تنخواہ دینالازمی ہو گی

دُبئی(نیوز ڈیسک) متحدہ عرب امارات میں نجی اداروں اور کمپنیوں کو پابند کیا گیا ہے کہ اگر ان کے کسی کارکن کی ڈیوٹی کی وجہ سے موت ہو جائے تو ایسی صورت میں اس کے لواحقین کو 2 سال کی بنیادی تنخواہ دی جائے گی۔ وزارت افرادی قوت واماریتائزیشن کے مطابق یہ معاوضہ ملازم کی آخری تنخواہ کے مطابق دیا جائے گا ۔ مجموعی طور پر کسی کارکن کے اہلِ خانہ کو کم از کم 18ہزار درہم جبکہ زیادہ سے زیادہ 35 ہزار درہم ادا کرنا ہوں گے۔اس میں دو صورتیں ہیں۔پہلی یہ کہ اگر کسی کارکن کی ڈیوٹی کے دوران ہونے والے حادثے کے باعث موت ہو جائے ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ ادارے یا کام کی جگہ پر کوئی دھماکہ وغیرہ ہو جائے تو ایسی صورت میں مرنے والے ملازم یا ملازمین کے اہلِ خانہ کو 24 ماہ کی بنیادی تنخواہ دینی لازمی ہو گی۔حادثے کے شکار افراد کے زخمی ہونے یا مرنے کے بارے میں وزارت کو فوری طور پر اطلاع دینی بھی لازمی ہے۔

ان ہدایات پر عمل نہ کرنے والے اداروں کے خلاف سختی سے نمٹا جائے گا اور مرنے والے کے لواحقین کو ہر صورت رقم دلوائی جائے گی۔وزارت کی جانب سے خبردار کیا گیا ہے کہ اگر کسی ادارے کا ملازم کورونا سے متاثر ہو جائے تو فوری طور پر اس ملازم کی رپورٹ وزارت افرادی قوت کو دی جائے، ورنہ ادارے کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ تمام نجی اداروں کے لیے لازمی ہو گا کہ وہ اپنے کورونا متاثر ملازم کی اطلاع 24 گھنٹے کے اندر وزارت کو دیں۔اس ملازم کو تین روز یا اس سے زیادہ مُدت کے لیے ڈیوٹی پر آنے سے روک دیا جائے گا۔ جو ادارے 24 گھنٹوں کے اندر کورونا سے متاثرہ ملازمین کی اطلاع نہیں دیں گے، ان پر فی ملازم 10 ہزار درہم کا جرمانہ ہو گا۔ سنگین خلاف ورزی کی صورت میں ادارے کو عارضی طور پر بند بھی کیا جا سکتا ہے۔ وزارت کی جانب سے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے بھی ان ہدایات کی تشہیر کر کے آگہی مہم شروع کر دی گئی ہے۔