پیرس ہلٹن کی استحصال کرنے والے اسکول کی بندش کے خلاف تحریک

معروف اداکارہ، معروف ریئلٹی اسٹار، کاروباری خاتون و سماجی رہنما 39 سالہ پیرس ہلٹن نے بچپن میں متعدد افراد کو ذہنی و جسمانی استحصال کا نشانہ بنانے والے اسکول کو بند کرنے کے لیے باضابطہ طور پر تحریک شروع کردی۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق پیرس ہلٹن نے امریکی ریاست اٹاہ میں موجود بورڈنگ اسکول پرووو کینیون کی بندش کے خلاف اسکول کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔

پیرس ہلٹن کی سربراہی میں ہونے والے مظاہرے میں درجنوں ایسے افراد نے شرکت کی، جنہیں ماضی میں مذکورہ اسکول میں ذہنی و جسمانی تشدد و استحصال کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

احتجاج میں شریک ہونے والے افراد میں کئی اب معروف شخصیات بن چکی ہیں، جن میں سے زیادہ تر شخصیات فیشن، میڈیا، شوبز اور سوشل میڈیا میں اہم مقام پر پہنچ چکی ہیں۔

س ہلٹن کے علاوہ بھی کئی اہم امریکی شخصیات نے مذکورہ اسکول پر بچپن میں ذہنی و جسمانی استحصال کے الزامات لگائے ہیں اور مطالبہ کیا ہےکہ مذکورہ اسکول کو بند کیا جائے۔

مظاہرے میں شامل تمام افراد کا دعویٰ تھا کہ وہ بھی ماضی میں مذکورہ اسکول میں تشدد کا نشانہ بن چکے—فوٹو: اے پی
اسکول پر الزام لگانے والی زیادہ تر شخصیات کے مطابق انہیں دوران تعلیم ذہنی مسائل کا علاج کرنے کے بہانے مشکوک ادویات دی جاتی تھیں جب کہ انہیں تشدد کا نشانہ بھی بنایا جاتا تھا۔

علاوہ ازیں پیرس ہلٹن نے چینج ڈاٹ آرگنائیزیشن پر اسکول کی بندش کے خلاف آن لائن مہم بھی چلا رکھی ہے، جس پر لاکھوں افراد دستخط کر چکے ہیں۔

ریاست اٹاہ کے بورڈنگ اسکول پرووو کینیون کے خلاف پیرس ہلٹن نے گزشتہ ماہ اس وقت تحریک چلانے کا اعلان کیا تھا، جب انہوں نے ایک دستاویزی فلم جاری کی تھی۔

’یہ پیرس ہلٹن ہے‘ نامی دستاویزی فلم میں اداکارہ نے بتایا تھا کہ ریاست اٹاہ میں موجود بورڈنگ اسکول پرووو کینیون میں تعلیم کے دوران انہیں کم عمری میں وہاں ذہنی و جسمانی استحصال کا نشانہ بنایا گیا۔

پیرس ہلٹن کا کہنا تھا کہ انہیں بورڈنگ اسکول میں بدترین طریقے سے ذہنی و جسمانی استحصال کا نشانہ بنایا گیا اور اب اس کا مقصد مذکورہ اسکول کو بند کروانا ہے۔

پیرس ہلٹن کا کہنا تھا کہ اسکول انتظامیہ ان پر بدترین جسمانی تشدد کرتی تھی، انہیں ذہنی مسائل کے بہانے نامعلوم ادویات دی جاتی تھیں، انہیں ننگا نہاتے ہوئے دیکھا جاتا تھا اور سزا کے طور پر انہیں برہنہ قید کیا جاتا تھا۔

ایک گھنٹے سے طویل دورانیے کی دستاویزی فلم میں پیرس ہلٹن نے کئی انکشافات کیے تھے—اسکرین شاٹ/ یوٹیوب
پیرس ہلٹن نے ویڈیو میں اپنی زندگی کے دیگر مسائل سے بھی پردہ اٹ