ٹرمپ کورونا سے ’صحتیاب‘ ہونے کے بعد پہلی مرتبہ وائٹ ہاؤس میں حامیوں کے سامنے آگئے

واشنگٹن: امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ 9 روز تک کورونا کی وجہ سے زیر علاج رہنے کے بعد وائٹ ہاؤس کے سامنے جمع ہزاروں حامیوں کے سامنے آگئے۔

توقع کی جارہی ہے کہ وہ 17 اکتوبر کو انتخابی مہم شروع کے لیے دوبارہ اعلان کریں گے۔

غیر ملکی خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق ایک طرف تو ڈونلڈ ٹرمپ نے خود کو ’صحیتاب‘ قرار دے دیا لیکن ان کی صحت پر شکوک و شبہات سامنے آرہے ہیں کیونکہ امریکی صدر کے ڈاکٹر عوام سے شفاف طور پر بات چیت کرنے کے بجائے اپنے ’اسٹار‘ مریض کو خوش کرنے میں زیادہ فکر مند دکھائی دے رہےہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ اس وقت مجھے ادویات کی ضرورت نہیں ہے، میں نے 8 گھنٹے کے دوران کوئی دوائی نہیں لی۔

امریکی صدر نے ہسپتال میں ہی آن کیمرہ انٹرویو دیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ پیر کے روز فلوریڈا کی ایک انتہائی اہم ریاست میں ایک ریلی کا انعقاد کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ ٹرمپ کے اس فیصلے کو ان کے انتخابی حریف جوبائیڈن نے ’لاپرواہ‘ قرار دے دیا اور انہیں خدشہ ہے کہ صدر کو ابھی بھی متعدی بیماری ہوسکتی ہے۔

دوسری جانب ٹرمپ نے اگلے ہفتے دو جلسوں کا اعلان کیا۔

گزشتہ روز ٹرمپ کے درجنوں حمایتی وائٹ ہاؤس کے باہر جمع ہوئے تھے تاکہ ٹرمپ کے آوٹ ڈور خطاب کو سن سکیں اور توقع کی جاری تھی کہ وہ سیاہ فارم برادریوں میں قانون نافذ کرنے پر توجہ مرکوز کریں گے۔

واضح رہے کہ امریکا میں صدارتی انتخاب کے امیدوار جو بائیڈن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ انتخابی مباحثے سے انکار کردیا تھا۔

ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے کہا تھا کہ ‘اگر امریکی صدر کووڈ 19 کی وجہ سے بیمار رہے تو وہ اگلے ہفتے ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ طے شدہ انتخابی مباحثے کا حصہ نہیں بنیں گے۔

77 سالہ صدارتی امیدوار اور ٹرمپ کے سیاسی حریف نے کہا تھا کہ وہ چاہیں گے کہ صحت سے متعلق تمام ایس او پیز پر عمل کریں۔

بعدازاں ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سیاسی حریف جو بائیڈن کے ساتھ ورچوئل انتخابی مباحثے سے بھی انکار کردیا تھا۔

امریکی صدر نے کہا تھا ’میں ایک ورچوئل بحث پر اپنا وقت ضائع کرنے والا نہیں ہوں’۔

صدارتی مباحثوں کے انچارج نان پارٹیزن کمیشن کی جانب سے نئے فارمیٹ کے اعلان کے بعد فاکس بزنس کے ساتھ فون پر انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ‘ورچوئل بحث کوئی بحث نہیں ہوتی’۔

ٹرمپ نے کہا تھا کہ ‘آپ ایک کمپیوٹر کے پیچھے بیٹھ کر مباحثہ کرتے ہیں، یہ مضحکہ خیز ہے اور وہ جب چاہیں آپ کی لائن کاٹ دیں’۔