افغانستان: صوبہ لغمان کے گورنر کے قافلے پر خودکش حملہ، 8 افراد ہلاک

افغانستان میں ہوئے خودکش دھماکے میں صوبہ لغمان کے گورنر کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں کم از کم 8افراد ہلاک ہو گئے۔

مشرقی صوبہ لغمان کے گورنر رحمت اللہ یارمل کے قافلے سے حملہ آور نے اپنی بارود سے بھری گاڑی کو ٹکرا دیا جس کے نتیجے میں 28افراد زخمی بھی ہوئے۔

گورنر کے ترجمان اسد اللہ دولت زئی نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ جب گاڑی کو ٹکر ماری گئی اس وقت گورنر اپنے دفتر جارہے تھے، ان کے چار محافظ اور چار عام شہری ہلاک اور 28 زخمی ہو گئے۔

وزارت داخلہ کے ترجمان طارق آرائیں نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ زخمیوں میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔

یہ بات ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر اشرف غنی افغان حکومت اور طالبان کے مابین امن مذاکرات کے آغاز کے تین ہفتوں بعد قطری عہدیداروں سے ملاقات کے لیے دوحہ روانہ ہوئے ہیں، ان کے ترجمان صدیق صدیقی نے بتایا کہ اشرف غنی امیر شیخ صباح الاحمد الصباح کی وفات پر اظہار تعزیت کے لیے پہلے کویت میں رکیں گے۔

طالبان اور افغان حکومت کے مذاکرات کاروں کے مابین مذاکرات کا مقصد افغانستان کے 19 سالہ تنازع کو ختم کرنا ہے البتہ مذاکرات کے حوالے سے ضابطہ اخلاق کو مرتب کرنے کے سلسلے میں معاملات تعطل کا شکار ہیں۔

طالبان سنی اسلام کے حنفی مکتبہ فکر پر عمل پیرا ہونے کی تاکید کر رہے ہیں لیکن حکومت کے مذاکرات کاروں کا ماننا ہے کہ اسے ہزارہ برادری سے امتیازی سلوک کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جو بنیادی طور پر شیعہ ہیں اور ملک میں دیگر اقلیتوں کے ساتھ۔

ایک اور متنازع موضوع یہ ہے کہ امریکا اور طالبان کے معاہدے کے بعد یہ امن معاہدہ مستقبل میں کیا شکل اختیار کرے گا۔

ابھی تک کسی نے لغمان حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے لیکن مذکورہ صوبے میں طالبان خاصے سرگرم ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل ہفتے کو مشرقی صوبے ننگرہار میں ایک انتظامی عمارت کے داخلی دروازے پر خود کش دھماکے کے نتیجے میں 15 افراد ہلاک ہوگئے جن میں سے زیادہ تر عام شہری تھے۔