آذربائیجان کا آرمینیا کی فوج کی پسپائی تک لڑنے کا عزم

آذربائیجان نے متنازع علاقے نیگورنے-کاراباخ سے آرمینیا کی فوج کی مکمل پسپائی تک فوجی کارروائی جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کردیا۔

غیرملکی خبرایجنسیوں کی رپورٹ کے مطابق آذربائیجان کے صدر الہام علی یوف نے کہا کہ ‘ہماری صرف ایک شرط ہے کہ آرمینیا کی مسلح افواج غیر مشروط، مکمل اور فوری طور پر ہماری سرزمین خالی کردیں’۔

انہوں نے کہا کہ ‘اگر آرمینیا کی حکومت اس مطالبے کو پورا کرتی ہے تو جنگ اور خون ریزی ختم ہوگی جس کے بعد خطے میں امن قائم ہوگا’۔

قبل ازیں آذربائیجان کے وزیرخارجہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ باکو’اپنے علاقے میں مسلط کی گئی جارحیت کے انسداد، مکمل طور پر خود مختاری اور امن کی بحالی تک جوابی وار جاری رکھے گا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم واضح طور پر آرمینیا کی فوج کا آذربائیجان کے خطے سے انخلا چاہتے ہیں’۔

آرمینیا اور آذربائیجان دونوں ممالک نے جنگ روکنے اور مذاکرات کے عالمی مطالبات کو مسترد کرچکے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق گزشتہ 4 روز سے جاری جھڑپوں میں اب تک دونوں اطراف سے مجموعی طور پر 100 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون نے متنازع علاقے نیگورنے-کاراباخ میں ہونے والی جھڑپوں کے حوالے سے آرمینیا کے ساتھ اظہار یک جہتی کیا۔

انہوں نے دونوں ممالک سے تنازع غیرمشروط طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ آذربائیجان نے گزشتہ ہفتے کے آخر میں لڑائی شروع کی۔

ان کا کہنا تھا کہ آرمینیاکے وزیراعظم نیکول پیشنیان اور آذربائیجان کے صدر الہام علی یوف سے اس معاملے پر بات ہوچکی ہے۔

فرانسیسی صدر نے لٹوویا کے دورے کے موقع پر کہا کہ ‘میں چاہتا تھا کہ یہ حملے ختم ہوں اور میں ان حملوں کی شدید مذمت کرتا ہوں’۔