کویت کے نئے امیر نے نواف الاحمد نے حلف اٹھا لیا، خطے میں امن پر زور

شیخ نواف الاحمد الصباح نے 91 سالہ صباح الاحمد الصباح کے انتقال کے بعد کویت کے نئے امیر کی حیثیت سے پارلیمنٹ میں حلف اٹھالیا۔

خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق کویت کے نئے امیر نے سابق حکمران شیخ صباح الاحمد الصباح کی تدفین سے قبل پارلیمنٹ کے اجلاس میں حلف اٹھایا۔

کویت کی کایبنہ نے ولی عہد شیخ نواف الاحمد الصباح کو فوری طور پر نیا امیر نامزد کردیا تھا کیونکہ ان کا نام پہلے ہی تجویز کیا جاچکا تھا۔

خیال رہے کہ 91 سالہ شیخ صباح الاحمد الصباح گزشتہ روز امریکا میں انتقال کرگئے تھے جہاں وہ علاج کے لیے رواں برس جولائی میں گئے تھے‎

شیخ صباح الاحمد الصباح کی میت کو تدفیق کے لیے کویت لایا جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق شیخ صباح الاحمد کی نماز جنازہ کو صرف شاہی خاندان تک محدود رکھاجائے گا، کورونا کے باعث بڑا اجتماع نہیں ہوگا۔

اس سے قبل 2006 میں اس وقت کے امیرشیخ جابر الاحمد الصباح کا انتقال ہوا تھا توغیرملکیوں سمیت ہزاروں شہریوں نے نماز جنازہ میں شرکت کی تھی اور گلیوں میں بھی صفیں باندھیں گئی تھیں۔

کویت نئے امیر 83 سالہ نواف الاحمد الصباح نے حلف اٹھانے کے بعد اپنے دفتر میں بات کرتے ہوئے کہا کہ خطے کے ممالک کی خوش حالی، استحکام اور سلامتی کے لیے کام کریں گے جس پر اراکین پارلیمنٹ نے ان سے بھرپور یک جہتی کا اظہار کیا۔

ایوان میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘ہماری قوم کو آج مشکل حالات اور خطرناک چینلجزکا سامنا ہے، جن کو اتحاد اور مل کر کام کے ہی ختم کیا جاسکتا ہے’۔

شیخ صباح الاحمد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کویت کی شہری خاتون نے کہا کہ ‘ہم دیانت داری سے محسوس کررہے ہیں کہ ہم ان کی رہنمائی کے بغیر ختم ہورہے ہیں’۔

دنیا بھر سے کویت کے امیر شیخ صباح الاحمد کو خراج عقیدت پیش کیا گیا، جو خطے میں خوش حالی اور امن کی کوششوں کے لیے بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے اورمشرق وسطیٰ میں تنازعات کے حل کے لیے متحرک رہتے تھے۔

شیخ صباح نے آخری دن تک خلیجی ممالک کا تنازع حل کرنے کی کوشش جاری رکھی جبکہ نوے کی دہائی میں ان پر حملہ آور ہونے والے عراق سے بھی قریبی تعلقات بحال کردیے تھے۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ ان کے انتقال سے خطے کو رواں برس یہ دوسرا دھچکا لگا ہے، اس سے قبل عمان کے سلطان قابوس انتقال کرگئے تھے جو خطے میں توازن برقرار رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کرتے تھے۔

اٹلانٹک کونسل کے مشرق وسطیٰ کے امور کے ڈائریکٹر کرسٹین فونٹینروز کا کہنا تھا کہ ‘گوکہ خلیجی ممالک میں ابھرتے ہوئے حکمرانوں نے ان کی نصحیت پر ہمیشہ عمل نہیں کیا لیکن وہ صلح کے حصول کے لیے سخت محنت جاری رکھتے تھے جو عالمی برداری کے خطے میں خیرسگالی کی بنیاد تھی’۔

کویت کے نئے امیر کے حوالے سے کہا جارہا ہے کہ ان کے دور میں کویت کی خارجہ پالیسی، تیل اور سرمایہ کاری سے متعلق پالیسیوں میں بڑی تبدیلی متوقع نہیں ہے۔

نواف الاحمد الصباح کو ولی عہد کی حیثیت سے شاہی خاندان اور مل کے اندرونی معاملات سے واسطہ پڑا ہے اور وہ خطے میں اپنے بھائی کی طرح ثالثی کے کردار کا وسیع تجربہ نہیں رکھتے۔

نئے امیر پارلیمنٹ میں اتفاق رائے قائم کرسکتے ہیں جہاں عام طور پر حکومت سے جھڑپ ہوتی ہے اور معاشی اصلاحات کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز کویت کے سرکاری ٹیلی ویژن پر قرآنی آیات کی تلاوت کے بعد اعلان کیا گیا تھا کہ شیخ صباح الاحمد الصباح انتقال کر گئے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ شیخ صباح کی وفات کے بعد اب ان کے بھائی شیخ نواف الاحمد الصباح متوقع طور پر کویت کے نئے امیر ہوں گے۔