بابری مسجد شہادت کیس: ایل کے ایڈوانی سمیت تمام 32 ملزمان بری

بھارت کی خصوصی عدالت نے بابری مسجد پر حملہ کرنے کے الزام سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما اور سابق نائب وزیراعظم لال کرشنا (ایل کے) ایڈوانی، مرلی منوہر جوشی، اوما بھارتی سمیت تمام 32 ملزمان کو بری کردیا۔

امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس اے پی کی رپورٹ کے مطابق ان تمام افراد پر 1992 میں 16ویں صدی عیسویں کی بابری مسجد کو شہید کرنے اور ہندو مسلم فسادات کو بھڑکانے کے الزامات تھے جس کے نتیجے میں 3 ہزار افراد مارے گئے تھے۔

بھارتی نشریاتی ادارے این ڈی ٹی وی کی  کے مطابق مذکورہ مقدمہ بھارتی عدالت میں 28 سال تک چلا اور آج سنائے گئے فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ مسجد کی شہادت باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت نہیں کی گئی تھی۔

اس کیس کا فیصلہ سنانے کے لیے جج کے عہدے کی مدت میں توسیع بھی کی گئی جنہوں نے کہا کہ ‘مسجد کو سماج مخالف عناصر نے منہدم کیا تھا اور جن رہنماؤں پر الزام عائد کیا گیا ہے انہوں نے لوگوں کو روکنے کی کوشش کی’۔

جج کا یہ بھی کہنا تھاکہ سی بی آئی کی جانب سے عدالت میں پیش کردہ آڈیو اور ویڈیو شواہد کوئی سازش ثابت نہیں کرسکے جبکہ تقاریر کی آڈیو واضح نہیں تھی۔

تفتیشی اداروں کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ایل کے ایڈوانی، اوما بھارتی، اور کلیان سنگھ سمیت 32 ملزمان اس اسٹیج کے قریب موجود تھے جہاں سیاسی، مذہبی اور مندر کے لیے مہم چلانے والوں نے تقاریر کیں اور ان تقاریر کی وجہ سے ہجوم مشتعل ہوا۔

این ڈی ٹی وی نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ ایک پروگرام میں ایل کے ایڈوانی نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ بابری مسجد کی شہادت ایک ‘خوفناک غلطی تھی لیکن مجھے آج تک معلوم نہیں کہ ہجوم کے مشتعل ہونے کے نتیجے میں ہوا یا کسی گروہ کی جانب سے جان بوجھ کر کیا گیا’۔