بھارتی ناظم الاموردفتر خارجہ طلب، کنٹرول لائن کے تندار سیکٹر میں جنگ بندی کی بلااشتعال خلاف ورزیوں پر احتجاج ریکارڈ

بھارتی ناظم الاموردفتر خارجہ طلب،28 ستمبر کو کنٹرول لائن کے تندار سیکٹر میں جنگ بندی کی بلااشتعال خلاف ورزیوں پر احتجاج ریکارڈ کرایا گیا

جده۔ 29 ستمبر بھارتی ناظم الامور گورو اہلو والہ کو دفتر خارجہ طلب کرکے 28 ستمبر کو قابض بھارتی افواج کی جانب سے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے تندار سیکٹر میں جنگ بندی کی بلااشتعال خلاف ورزیوں پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔ بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ کے نتیجہ میں 15سالہ بیگناہ شہری ولید ولد محمد فرید شہید جبکہ خاتون سمیت چار شہری شدید زخمی ہوئے۔ منگل کو ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ڈائریکٹر جنرل (جنوبی ایشیا و سارک) نے بھارتی ناظم الامورکو دفتر خارجہ طلب کرکے احتجاجی مراسلہ ان کے حوالہ کیا اور کہا کہ قابض بھارتی افواج ایل او سی اور ورکنگ باﺅنڈری کی مسلسل خلاف ورزیاں کرتے ہوئے آرٹلری، بھاری اور خودکار ہتھیاروں کے ذریعے عام شہری آبادیوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ بھارتی ناظم الامور کو بتایا گیا کہ شہری آبادیوں کو دانستہ نشانہ بنانا انتہائی قابل افسوس، انسانی عظمت و وقار، عالمی انسانی حقوق اور بین الاقوامی انسانی قوانین کے صریحاً منافی ہے، بھارت کی جانب سے جنگ بندی کی ان خلاف ورزیوں سے علاقائی امن و سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہیں جس کا نتیجہ سٹرٹیجک غلطی کی صورت نکل سکتا ہے۔ بھارت نے رواں سال کے دوران 2387 مرتبہ بلااشتعال جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کی ہیں جس میں 19 بیگناہ شہر ی شہید اور 191 زخمی ہوئے ہیں۔ بھارتی ناظم الامور کو آگاہ کیا گیا کہ ایل او سی پر کشیدگی میں اضافہ سے بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور مظالم سے عالمی توجہ ہٹا نہیں سکتا۔ بھارت پر زوردیا گیا کہ وہ 2003ءکے جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کرے، جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے ان واقعات کی تحقیقات کرائے، بھارتی فوج کو جنگ بندی کے احترام کا حکم دے، ایل او سی اور ورکنگ باﺅنڈری پر اس کی روح کے مطابق امن برقرار رکھے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق بھارت اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین (یواین ایم او جی آئی پی) کو اپنا کردارادا کرنے کی اجازت دے۔