دبئی کے صحرا میں مریخ جیسے شہر کی تعمیر کا منصوبہ

متحدہ عرب امارات (یو اےا ی) کا شہر دبئی اپنی فلک بوس عمارتوں اور دیگر اعزازات کے باعث دنیا بھر میں مشہور ہے۔

جہاں فائر فائٹرز جیٹ پیکس استعمال کرتے ہیں، ایسی عمارات ہیں جو بادلوں سے بھی اوپر تک پھیلی ہوئی ہیں۔

اب وہاں ایک اور حیران کن تعمیراتی منصوبے پر کام ہورہا ہے جو دنگ کردینے والا ہے۔

فروری 2017 میں دبئی حکومت کی جانب سے 2117 تک مریخ میں ایک نیا شہر بسانے کا اعلان کیا گیا تھا۔

دبئی کے صحرا میں ایک لاکھ 76 ہزار اسکوائر میٹر رقبے پر تعمیر کیا جائے گا جو کہ 30 سے زیادہ فٹبال اسٹیڈیمزز سے زیادہ بڑا ہوگا جبکہ اس کی لاگت 13 کروڑ 50 لاکھ ڈالرز ہوگی۔

محمد بن راشد اسپیس سینٹر (ایم بی آر ایس سی) کی جانب سے مریخ میں شہر بسانے کے لیے ٹیکنالوجی تیار کی جائے گی اور بجارکے انگلز گروپ کو کہا گیا ہے کہ وہ دبئی کے صحرائی علاقے میں ایسے پروٹوٹائپ شہر کی تعمیر کرے۔

اس مقصد کے لیے ماہرین کو جس بڑے چیلنج سے نمٹنا پڑا وہ ایسے ماحول کو ڈیزائن کرنا تھا جو مریخ کو رہائش کے قابل بناسکے۔

مریخ کی آب و ہوا زمین کے مقابلے میں پتلی ہے جبکہ وہاں مقناطیسی میدان بھی نہیں، تو نقصان دہ ریڈی ایشن سے زیادہ تحفظ دستیاب نہیں جبکہ وہاں کا درجہ حرارت بھی ایک مسئلہ ہے جو اوسطاً منفی 81 ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔

مریخ کے ماحول میں ہوا کا دباؤ بھی بہت کم ہے تو سیال بہت جلد گیس کے بخارات میں تبدیل ہوجاتا ہے اور وہاں کے منجمد کردینے والے درجہ حرارت کے باوجود غیر محفوظ مااحول میں انسانی خون وہاں ابل سکتا ہے۔