دنیا بھر میں کورونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 10 لاکھ سے متجاوز

پیرس: دنیا کی معیشت کو متاثر کرنے والی، سفارتی تعلقات کشیدہ اور بھارت کی کچی بستیوں سے لے کر نیویارک شہر تک کو لپیٹ میں لینی والی وبا کورونا وزئرس کے پھیلاؤ کے نتیجے میں دنیا بھر میں انتقال کر جانے والوں کی تعداد 10 لاکھ سے تجاوز کر گئی۔

چین کے شہر ووہان میں سامنے آنے والے وائرس کے بعد 9 ماہ کے عرصے میں اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے متعدد اقدامات کیے گئے جن میں اسکولز، کاروباری مراکز، تفریحی تقریبات اور بین الاقوامی سفر کو معطل کرتے ہوئے سختی سے گھروں میں رہنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

سخت اقدامات نے انسانوں کی آدھی آبادی یعنی 4 ارب سے زائد نفوس کو اپریل تک کسی نہ کسی شکل میں لاک ڈاؤن میں رکھا جس سے وائرس کا پھیلاؤ سست ہوا لیکن جب سے پابندیوں میں نرمی کی گئی انفیکشن دوبارہ پھیل گیا۔

جان ہاپکنز یونیورسٹی کے اکٹھا کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق آج 29 ستمبر کی دوپہر تک اس وبا کے ہاتھوں 10 لاکھ 2 ہزار 296 مریض لقمہ اجل بن چکے ہیں جبکہ متاثر ہونے والوں کی تعداد 3 کروڑ 33 لاکھ 84 ہزار 153 ہے جس میں سے 2 کروڑ 31 لاکھ 67 ہزار 288 صحتیاب بھی ہوئے ہیں۔

امریکا میں کورونا وائرس کے باعث ہونے والی اموات کی تعداد سب سے زیادہ یعنی 2 لاکھ سے زائد ہیں جس کے بعد برازیل، بھارت، میکسکو اور برطانیہ کا نمبر ہے۔

ان اعداد شمار کے پیچھے لاکھوں جانیں اس ایک بیماری سے بکھر گئیں جو اب بھی اپنے اندر پراسراریت رکھے ہوئے ہے اور ادویات اور ویکسین تیاری کرنے کی دوڑ کے باوجود اب تک مؤثر طریقے سے اس کا علاج یا اسے روکا نہیں جا سکا۔

عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے خبردار کیا تھا کہ معاشی بدحالی ایسے بحران کا سبب بن سکتی ہے جو اس سے پہلے نہ دیکھا گیا حالانکہ ادارے کا نقطہ نظر جون کے مقابلے اب خاصہ بہتر دکھائی دیتا ہے۔

وبا کی پہلی لہر کے دوران یورپ بری طرح متاثر ہوا تھا جس میں پیرس، لندن اور میڈرڈ انفیکشن کے خطرات کو کم کرنے اور ہسپتالوں سے بوجھ کم کرنے کے لیے روک تھام کے اقدامات پر مجبور ہوگئے۔

ستمبر کے وسط میں کیسز کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا اور عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا کہ اگر مزید مشترکہ عالمی اقدامات نہیں کیے گئے تو اموات کی تعداد 20 لاکھ ہوسکتی ہے۔

بھارت میں انفیکشنز کی تعداد 60 لاکھ سے بڑھ چکی ہے لیکن حکام معیشت کی بہتری کے لیے بند شعبے کھولنے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

وائرس نے پہلے بڑی شہروں بشمول مالیاتی حب ممبئی اور دارالحکومت نئی دہلی کو متاثر کیا لیکن جب سے دیہی علاقوں میں وائرس پھیلا ہے ہیلتھ کیئر سسٹم مزید کمزور ہوگیا ہے۔