مودی نے اقوام متحدہ میں اہم مسائل پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا، پاکستان

اقوام متحدہ: پاکستان نے عالمی برادری کو باورکرایا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کشمیر اور دیگر اہم عالمی امور کو نظر انداز کیا۔

بھارتی رہنما نے ہفتے کے روز 75 ویں یو این جی اے سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مستقل نشست کا مطالبہ کیا لیکن جان بوجھ کر اہم عالمی امور کو نظرانداز کیا۔

اقوام متحدہ، بھارت کو مقبوضہ کشمیر کی جغرافیائی حیثیت تبدیل کرنے سے روکے، پاکستان

پاکستان نے بھارتی مطالبے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یو این ایس سی جیسے فیصلہ ساز ادارے میں ‘فاشسٹ ریاست’ کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر منیر اکرم نے ایک بیان میں کہا کہ نریندر مودی نے اپنی تقریر میں معمولی معاملات پر بات کی جبکہ ان مسائل کو نظرانداز کیا جن میں دنیا دلچسپی رکھتی ہے۔

منیر اکرم نے کہا کہ ‘نریندر مودی کی تقریر بین الاقوامی امور پر خاموش تھی اور ایک عدم روادار، منقسم، سفاک اور معاشی طور پر ناکام بھارت کی حقیقت سے علیحدگی اختیار کرلی جس سے وہ اپنے تمام پڑوسیوں کے ساتھ تنازعات کا شکار ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘دنیا اس بات میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتی کہ کتنے بھارتی کھلے عام رفع حاجت کرتے ہیں’۔

واضح رہے کہ نریندر مودی نے 60 کروڑ لوگوں کو کھلے عام رفع حاجت سے متعلق اصلاحات متعارف کرائیں تھی اور کہا تھا کہ ‘یہ آسان کام نہیں تھا لیکن بھارت نے اسے حاصل کرلیا ہے’۔

ویڈیو لنک کے ذریعے گفتگو کرتے ہوئے نریندر مودی نے فلسطین کے سوال اور آب و ہوا کی تبدیلی کو بھی نظرانداز کیا وہ معاملات جو بھارت کے دوہرے چہرے کو بے نقاب کرسکتے ہیں۔

بھارت نے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے قانونی طور پر یونین میں ضم کردیا اور اس کے بعد سے لاکھوں کشمیری محاصرے میں رہ رہے ہیں۔

اقوام متحدہ بشمول انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں اور میڈیا کی جانب سے کشمیر میں انسانی حقوق کی مجموعی خلاف ورزیوں پر شدید تنقید کی گئی ہے لیکن بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھی اپنی تقریر میں ان کے خدشات کا ذکر نہیں کیا۔