16 لاکھ 79 ہزار افراد کو کشمیر کے ڈومیسائل سرٹیفکیٹس دے چکے، بھارت کا اعتراف

سرینگر: بھارتی وزیر مملکت برائے داخلہ جی کرشن ریڈی نے کہا ہے کہ بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں اب تک 16لاکھ 79 ہزار افراد کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹس دیے جا چکے ہیں۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جی کرشن ریڈی نے بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان زیرین لوک سبھا کو ایک سوال کے تحریری جواب میں بتایا کہ جموں وکشمیر کی انتظامیہ کی طرف سے فراہم کی جانے والی معلومات میں کہا گیا ہے کہ تاحال 21 لاکھ 13ہزار8سو 79افراد نے ڈومیسائل کے حصول کیلیے درخواستیں دی تھیںجن میں سے 16لاکھ سے زائد کر مذکورہ سرٹیفکیٹس دیے گئے ہیں۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں قابض انتظامیہ نے ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کے اجرا کے قواعد وضوابط 2020 میں ترمیم کرتے ہوئے تحصیلدار کے علاوہ نائب تحصیلدار کو بھی سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا اختیار دیا ہے۔

اس سلسلے میں گزشتہ روز نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔ ایک سرکاری ترجمان کے مطابق ضابطہ 5 شق ایک میں ترمیم تحصیلدار اور نائب تحصیلدار دونوں کو مستقل رہائشی سرٹیفکیٹ رکھنے والے افراد اور ان کے بچوں کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا اختیار دیتی ہے جبکہ ڈپٹی کمشنر اپیل سننے کا مجازہوگا۔
سرکاری ترجمان نے مزید کہا کہ اس زمرے کے درخواست دہندگان کودرخواست کے ساتھ پی آر سی سرٹیفکیٹ منسلک کرنا ہو گا جبکہ ان کے بچوں کو والدین کی پی آر سی اور کسی مجاز اتھارٹی کی طرف سے جاری کیا گیا پیدائشی سرٹیفکیٹ منسلک کرنا ہوگا۔ مقبوضہ کشمیر کے ایک فوجی اڈے میں بھارتی فوج کے حوالدار ہرویندر سنگھ نے سرکاری رائفل سے گولی مار کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا ہے۔