‘اہلیہ کے فون کی تلاشی لینا جرم ہے’

سعودی عرب کے ایک وکیل نے کہا ہے کہ اہلیہ کے موبائل فون کی تلاشی لینا جرم ہے، کسی بھی شوہر کو ایسا کرنے کا اختیارحاصل نہیں۔

نایف آل منسی نے کہا کہ قانون نے شریک حیات کے موبائل فون چیک کرنے کو جرم قرار دے رکھا ہے۔

انہوں نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ سعودی انفارمیشن کرائم قانون کی دفعہ 3 میں بتایا گیا ہے کہ شوہر یا بیوی کسی کا بھی ایک دوسرے کی موبائل فون کی تلاشی لینا جرم ہے۔

نایف آل منسی نے مزید کہا کہ قانون کے تحت کمپیوٹر اور اسمارٹ آلات چیک کرنا منع ہے اور قانون میں ایسا کرنا جرم قرار دیا گیا ہے۔

سعودی عرب کے سرکاری ٹی وی الاخباریہ کے پروگرام ‘الراصد‘ میں اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سعودی وکیل نے کہا کہ اگر کوئی شوہر اپنی اہلیہ کا موبائل چیک کرتا ہے اور ان کے خلاف یہ الزام ثابت ہوگیا تو انہیں ایک برس قید اور پانچ لاکھ ریال جرمانے کی سزا ہوگی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اگر والدین نے اپنی بالغ اولاد میں سے کسی کا موبائل فون ، اسمارٹ آلات یا کمپیوٹر چیک کیا تو یہ بھی جرم کے زمرے میں آئے گا۔

ساتھ ہی سعودی وکیل نے بتایا کہ نابالغ اولاد کے موبائل فونز چیک کرنا جرم نہیں ہے۔

خیال رہے کہ سعودی عرب نے 2018 میں شریک حیات کے فون کی جاسوسی کو جرم قرار دیا تھا اور اسے سائبر کرائم میں شامل کیا گیا تھا۔

اس حوالے سے موجود قانون کی خلاف ورزی کرنے والے شخص کو ایک برس قید یا 5 لاکھ سعودی ریال جرمانے کا سامنا ہوسکتا ہے۔