دبئی ایکسپو میں افغانستان کے پویلین کا کیا حال ہے؟

گذشتہ روز دنیا کے سب سے بڑی ثقافتی نمائش دبئی ایکسپو 2020 کا آغاز ہوا جس میں تقریباً 200 ممالک شرکت کررہے ہیں۔ آئندہ 6 ماہ تک دبئی میں جاری رہنے والی اس نمائش میں جو ممالک شریک میں ان میں افغانستان بھی شامل ہے تاہم وہاں اگست کے مہینے میں آنے والی سیاسی تبدیلی کے بعد نمائش میں اس کا پویلین ویران پڑا ہوا ہے۔

افغانستان کی اشرف غنی حکومت نے اس نمائش کے حوالے سے تیاری جاری رکھی ہوئی تھیں تاہم طالبان کے ملک پر کنٹرول اور سابقہ حکومت کے خاتمے کے بعد دبئی ایکسپو میں افغانستان کے پویلین میں کام رک گیا۔ اب یہ واضح نہیں کہ نمائش کے دوران افغانستان کا پویلین کسی مرحلے پر کھولا جائے گا یا نہیں۔

جس عمارت میں افغان پویلین موجود ہے اس پر تعینات گارڈ نے بتایا کہ پویلین میں کام پورا نہیں ہوا اور یہ عام لوگوں کیلئے بند ہے، کئی ہفتوں سے یہاں کوئی آیا بھی نہیں۔ افغانستان کا پویلین نمائش کے چھوٹے پویلینز میں سے ایک ہے۔ نمائندے نے کہا کہ مزید تفصیلات افغان پویلین ٹیم ہی بتا سکتی ہے تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ افغان ٹیم کہاں ہے اور اس میں کون کون شامل ہے۔

اس حوالے سے دبئی حکومت اور متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے بھی تبصرے سے گریز کیا۔ اس سے قبل ایکسپو حکام نے کہا تھا کہ یہ نمائش غیر سیاسی ہوگی۔ خیال رہے کہ اگست کے مہینے میں افغانستان پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد سے اب تک طالبان بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے میں ناکام ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جمعرات کو ہونے والی دبئی ایکسپو کی افتتاحی تقریب میں افغانستان کے دستے نے طالبان نہیں بلکہ افغانستان کے قومی پرچم کے ساتھ مارچ پاسٹ کیا۔ طالبان حکومت علیحدہ جھنڈا استعمال کرتی ہے۔ خیال رہے کہ سابق افغان صدر اشرف غنی ملک سے فرار ہونے کے بعد اپنے اہل خانہ کے ساتھ متحدہ عرب امارات میں ہی مقیم ہیں۔

یاد رہے کہ 1996 سے 2001 کے دوران افغانستان میں طالبان کی جو حکومت تھی اسے جن تین ممالک نے تسلیم کیا تھا ان میں سے ایک یو اے ای بھی تھا۔