بھارت میں زرعی قوانین کیخلاف کسان احتجاج کے 300 روز مکمل، آج ملک گیر ہڑتال

بھارت میں تین نئے زرعی قوانین کے خلاف 10 ماہ سے کسانوں کا مظاہرہ جاری ہے۔ احتجاج کے 300 دن مکمل ہونے پر آج کسانوں کی جانب سے پورے بھارت میں مکمل ہڑتال جاری ہے۔ یہ ہڑتال شام 4 بجے تک جاری رہےگی۔کانگریس سمیت متعدد سیاسی جماعتوں اور تاجر وں نے ہڑتال کی حمایت کااعلان کیاہے۔

ہڑتال کی کال دینے والے جوائنٹ کسان مورچہ میں 40 کسان تنظیمیں شامل ہیں، کسانوں نے دلی اور ہریانہ کے درمیان آنے جانے والے 14 راستوں کو بلاک کر دیا ہے۔ ہریانہ میں شاہ آباد کے پاس دہلی – امرتسر نیشنل ہائی وے کو کسانوں نے جام کر دیا ہے۔

دلی ۔گرو گرام بارڈر پر بھی ٹریفک جام ہے اور گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئی ہیں۔ کسانوں کی ہڑتال کے موقع پر بھارتی پولیس کی جانب سے سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر نئی دلی کا کہنا ہے کہ مظاہرین کو دارالحکومت میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔

ریاست تامل ناڈو، چھتیس گڑھ، کیرالہ، پنجاب، جھارکھنڈ اور آندھرا پردیش کی حکومتوں نے کسان ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر کا کہناہے کسان احتجاج کا راستہ چھوڑ کر بات چیت سے مسئلے کا حل نکالیں، حکومت کسانوں کے مطالبات پر غور کرنے کے لیے تیار ہے۔

خیال رہے کہ کسانوں اور حکومت کے درمیان بات چیت کےکئی دوربےنتیجہ رہےہیں۔ نئے زرعی قوانین میں مسئلہ کیا ہے؟ بھارتی پارلیمنٹ نے ستمبر 2020 کے تیسرے ہفتے میں زراعت کے متعلق یکے بعد ديگرے تین بل متعارف کرائے جنھیں فوراً قانونی حیثیت دے دی گئی۔

ان میں ایک ’زرعی پیداوار تجارت اور کامرس قانون 2020‘ ہے جکہ دوسرا ’کسان (امپاورمنٹ اور پروٹیکشن) زرعی سروس قانون 2020‘ ہے جس میں قیمت کی یقین دہانی اور معاہدے شامل ہیں۔ تیسرا قانون ’ضروری اشیا (ترمیمی) قانون‘ ہے۔ پہلے قانون میں ماحولیاتی نظام بنانے کے لیے ایک دفعہ موجود ہے جہاں کسانوں اور تاجروں کو مارکیٹ کے باہر فصلیں فروخت کرنے کی آزادی ہو گی۔

ان کی دفعات میں ریاست کے اندر اور دو ریاستوں کے مابین تجارت کو فروغ دینے کے بارے میں کہا گیا ہے جس کی وجہ سے مارکیٹنگ اور نقل و حمل کے اخراجات کو کم کرنے کی بات کہی گئی ہے۔ کسان (امپاورمنٹ اور پروٹیکشن) زرعی قانون 2020 میں زرعی معاہدوں پر قومی فریم ورک مہیا کیا گیا ہے۔

ضروری اشیا (ترمیمی) قانون 2020 کے تحت اناج، دالیں، خوردنی تیل، پیاز آلو کو اشیائے ضروریہ کی فہرست سے نکالنے کا انتظام کیا گیا ہے۔ ان قوانین پر ملک میں منقسم رائے پائی جاتی ہے۔ ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی کا دعویٰ ہے کہ ان قوانین سے جو اصلاحات کی جا رہی ہیں وہ زراعت کے شعبے کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہوں گی۔

دوسری طرف ملک کی حزب اختلاف نے ان قوانین کو کسان مخالف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کسانوں کے لیے موت کا پروانہ ثابت ہوں گے۔