یونیورسٹی کے پی ایچ ڈی وائس چانسلر کو ہٹاکر گریجویٹ کی تقرری، طالبان تنقید کی زد میں

طالبان کی جانب سے افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا سلسلہ جاری ہے اور اسی طرح کی ایک تبدیلی کابل یونیوسٹی میں بھی کی گئی جہاں محمد اشرف غیرت کو وائس چانسلر تعینات کیا گیا ہے۔ جرمنی سے پی ایچ ڈی ہولڈر محمد عثمان بابری کو ہٹاکر گریجویٹ محمد اشرف غیرت کو کابل یونیورسٹی کا وائس چانسلر مقرر کر دیا گیا ہے۔ محمد اشرف غیرت کی تعیناتی پر عوام اور اساتذہ کی جانب سے شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

پروفیسرز یونین کی طالبان کو نظرثانی کیلئے ایک ہفتے کی مہلت پروفیسرز یونین کابل یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ پوری دنیا میں ہائر ایجوکیشن قانون کے مطابق اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کو منتخب کیا جاتا ہے لیکن افغانستان میں اس کے برعکس ہوا ہے۔

پروفیسرز یونین نے طالبان کو نظرثانی کے لیے ایک ہفتے کی مہلت دیتے ہوئے کہا ہے کہ محمد اشرف غیرت کی تقرری پر نظرثانی نہ ہوئی تو فیصلہ کریں گے۔ طالبان کے سینئر رکن شیخ فقیر اللہ فائق نے بھی اشرف غیرت کی تقرری پر تنقید کی ہے۔ ادھر کہنا ہے کہ اشرف غیرت نے ماضی میں صحافیوں کے قتل کے جواز پیش کیے تھے اور صحافیوں کے قتل پر بھی اکسایا تھا۔

اشرف غیرت نے خود پر لگے الزامات کی تردید اس حوالے سے کابل یونیورسٹی کے نومنتخب عبوری وائس چانسلر محمد اشرف غیرت کا کہنا ہے کہ وائس چانسلر کے عہدے پر تقرری کے بعد سے غلط دعووں اور پروپیگنڈےکا سامنا ہے۔

سوشل میڈیا پر جاری بیان میں محمد اشرف غیرت نے خود پر صحافیوں کے قتل کی حمایت سمیت تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی میں نصاب کی اسلامائزیشن اور اسلامی اسکالرز کی تقرری پر کام ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خلاف پروپیگنڈا صحافیوں اور افغانستان سے باہر رہنے والوں کی طرف سےکیا جا رہا ہے لیکن یہ پروپیگنڈا امارت اسلامی کے تعلیمی شعبے میں مثبت تبدیلیاں لانے کے عزم کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور نہ ہی فوٹو شاپ تصاویر سے عوام کو بیوقوف بنایا جا سکتا ہے۔