اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس: طالبان کا نمائندہ خطاب کرے گا یا اشرف غنی حکومت کا؟

افغانستان پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد طالبان نے عبوری کابینہ کا اعلان کردیا ہے جس میں ملا محمد حسن اخوند کو وزیراعظم اور ملا عبدالغنی برادر کو ان کا نائب بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مولوی امیر خان متقی کو افغانستان کا عبوری وزیر خارجہ مقرر کیا گیا ہے جنہوں نے 20 ستمبر 2021 کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کوخط لکھتے ہوئے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرنے دینے کا مطالبہ کیا اور ترجمان سہیل شاہین کو اقوام متحدہ میں افغانستان کا سفیر نامزد کیا۔

خط میں امیر خان متقی نے یہ بھی کہا کہ وہ جنرل اسمبلی اجلاس سے خطاب کے خواہاں ہیں لہٰذا انہیں اجازت دی جائے۔ اقوام متحدہ کی 76 ویں جنرل اسمبلی کے شیڈول کے مطابق افغانستان کو اجلاس کے آخری روز یعنی 27 ستمبر بروز پیر خطاب کرنا ہے تاہم افغانستان کی جانب سے خطاب طالبان حکومت کا نمائندہ کرے گا یا اشرف غنی کی سابق حکومت کا نمائندہ؟ اس حوالے پوری دنیا کی توجہ اس اجلاس پر ہے۔

اس اہم ترین فورم سے اگر طالبان کے نمائندے کو خطاب کی اجازت دی گئی تو یہ اس بات کا اشارہ ہوگا کہ طالبان کی حکومت کو کسی حد تک تسلیم کرلیا گیا ہے۔ اب اس حوالے سے اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوچاریک نے وضاحت کردی ہے کہ خطاب کرنے کے زیادہ چانسز کس کے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’اب تک پیر کو ہونے والے خطابات کیلئے فہرست میں افغانستان کی جانب سے جس شخص کا نام درج ہے وہ غلام ایم اسحاق زئی کا ہے۔‘ غلام اسحاق زئی طالبان کی جانب سے معزول کی گئی سابق افغان حکومت کے نامزد کردہ اقوام متحدہ میں مستقبل مندوب ہیں۔

تکنیکی طور پر اقوام متحدہ کے لیے کسی بھی شخص کو سفیر یا مندوب نامزد کرنے کی درخواست کا جائزہ 9 رکنی کمیٹی لیتی ہے جس میں امریکا ، چین اور روس کے نمائندے بھی شامل ہوتے ہیں۔ یہ کمیٹی عام طور پر اکتوبر یا نومبر میں اپنا اجلاس کرتی ہے لہٰذا اب یہ نا ممکن دکھائی دے رہا ہے کہ طالبان کے نمائندے کو جنرل اسمبلی اجلاس سے خطاب کی اجازت مل سکے۔

اقوام متحدہ کے رولز کے مطابق جب تک کمیٹی کوئی فیصلہ نہیں کرتی افغانستان کی نمائندگی غلام ایم اسحاق زئی ہی کریں گے۔ وہ جنرل اسمبلی کے رواں اجلاس کے افتتاح سے اب تک افغانستان کی نشست پر ہال میں براجمان رہے ہیں اور عین ممکن ہے کہ انہیں ہی خطاب کی اجازت دی جائے یا پھر افغانستان کو خطاب ہی نہ کرنے دیا جائے۔

علاوہ ازیں میانمار میں فوجی بغاوت کے نتیجے میں آنے والی حکومت کے تنازع کی وجہ سے اس بار میانمار کا نمائندہ بھی جنرل اسمبلی اجلاس سے خطاب نہیں کرسکے گا۔