بھارت کی کسان تحریک، ’اللہ اکبر اور ہر ہر مہادیو‘ کے نعرے

کھلے آسمان اور کووڈ کے تاریک بادلوں کے سائے تلے، موسم کی تلخیوں کو جھیلتے، پولس کی مارپیٹ کو سہتے، حکومت کی بے حسی کا مقابلہ کرتے اور اپنے پانچ سو سے زائد ساتھیوں کی اموات کے باوجود کسان آندولن نو ماہ پورے کر رہا ہے۔
نریندر مودی حکومت کے خلاف اظہار رائے کو بغاوت قرار دیا جانے لگا ہے، اکیسویں صدی کے ہندوستان کی سب سے طویل اور وسیع البنیاد تحریک ہے۔ ہندوستان میں ایک طویل عرصے سے کوئی اور تحریک اتنی لچکدار اور ثابت قدم نہیں رہی ہے۔
ایک دن کے لیے بھی کسان نہ اپنے حقوق کی لڑائی سے پیچھے ہٹے اور نہ ہی اپنے کھیتوں میں ہل چلانا بھولے۔ اپنی فصلوں اور مویشیوں کی طرف گھر واپس جاتے اور لوٹ کر دہلی کی سرحدوں پر ہنستے گاتے احتجاج کر رہے ہیں۔
پھر سرکار کی بے پروائی، میڈیا کی بے رخی، دارالحکومت دہلی کی سرحدوں کی نیزوں اور کیلوں سے قلعہ بندی اور اکثر تحریک کے تیز ہو جانے پر انٹرنیٹ سے چھیڑ چھاڑ کے باوجود کسانوں کا یہ احتجاج کامیابی سے جاری ہے۔