کابل ڈرون حملے میں کون ہلاک ہوا؟ امریکی اخبار نے حقیقت سے پردہ اٹھا دیا

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں گزشتہ ماہ ہونے والے ڈرون حملے میں امریکا نے داعش کے خودکش بمبار کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا لیکن امریکی اخبار نے حقیقت سے پردہ اٹھا دیا ہے۔

امریکی اخبار کا دعویٰ ہے کہ کابل ائیرپورٹ کے قریب جس گھر کو نشانہ بنایا گیا وہ امریکی این جی او کے لیے کام کرنے والی تنظیم کے انجینئر کا تھا۔ امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق زیماری احمدی دفتر کی گاڑی سے پانی کی بوتلیں اتار رہا تھا جنہیں ممکنہ طور پر دھماکا خیز مواد سمجھ لیا گیا اور حملہ کر دیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق حملے سے چند روز پہلے ہی زیماری احمدی نے امریکا میں پناہ کی درخواست دی تھی۔ خیال رہے کہ امریکا نے کابل ائیرپورٹ پر ہونے والے خودکش دھماکے کو جواز بنا کر کابل میں ایک گاڑی کو نشانہ بنایا تھا جس میں 7 بچوں سمیت 10 افراد مارے گئے تھے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے بھی اپنے بیان میں کہا تھا کہ ڈرون حملے میں داعش خراسان کا مبینہ خودکش حملہ آور ہلاک ہو ا۔ امریکی حکام کا یہ بھی کہنا تھا کہ ڈرون حملے میں ہونے والی دیگر ہلاکتوں کے حوالے سے تحقیقات کر رہے ہیں۔