friend daughter sucking sideways big rod.videos porno
desi porn
pornoxxx

اشرف غنی قریبی ساتھیوں کو بغیر بتائے ملک چھوڑ گئے

جب طالبان کا ایک وفد صدارتی محل میں حکومتی نمائندوں سے اقتدار کی پُرامن منتقلی کے لیے مذاکرات کر رہا تھا اور مسلح طالبان کابل کا گھیراؤ کیے ہوئے تھے کہ جیسے ہی مذاکرات کا کوئی حل نکلے اور وہ اپنے رہنماؤں کی ہدایت پاتے ہی دارالحکومت میں داخل ہوجائیں، ایسے میں صدر اشرف غنی اچانک اپنے سیاسی رفقاء کو تنہا چھوڑ کر ملک سے روانہ ہوجاتے ہیں۔
جب افغان صدر اشرف غنی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر ملک چھوڑنے کی اطلاع دی تو یہ بات سب کے لیے جتنی حیران کن تھی اس سے زیادہ ان کے سیاسی رفقاء اور صدارتی محل میں طالبان سے مذاکرات کرنے والے سیاسی قائدین کے لیے پریشان کن تھی۔
عالمی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اشرف غنی کے افغانستان چھوڑنے سے ان کے قریبی ساتھی بھی لاعلم تھے حتیٰ کے قومی مصالحتی کونسل کے سربراہ عبد اللہ عبداللہ اور سابق صدر حامد کرزئی بھی بے خبر تھے۔

رپورٹ کے مطابق افغان صدر صرف چند انتہائی قریبی ساتھیوں اور اہل خانہ کے ہمراہ جلا وطن ہوئے۔ اُن کی روانگی بھی اسی طرح ہوئی جیسے وہ صدر بننے کے لیے کابل ایئرپورٹ پر اترے تھے یعنی حامیوں کے ہجوم کے بغیر تنہا اور اکیلے۔ یہ واضح نہیں کہ اشرف غنی کس ملک گئے ہیں تاہم ایسی غیر مصدقہ اطلاعات ہیں کہ اشرف غنی کی جائے پناہ تاجکستان ہے۔ ملک سے روانگی کی تصدیق کرتے افغان صدر نے فیس بک پر لکھا تھا کہ مسلح طابان کا مقابلہ کرکے خون ریزی کے بجائے انھوں نے ملک چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔
صدر غنی کی اس بے وفائی پر دل برداشتہ ان کے حکومتی اتحادی ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ دارالحکومت کو تنہا چھوڑنے پر اشرف غنی خدا کو جواب دہ ہوں گے۔
اسی طرح سابق صدر حامد کرزئی جو صدارتی محل میں جاری مذاکرات کی کامیابی کے لیے آخری لمحے تک پُرامید تھے نے اشرف غنی کے اس اقدام پر انتہائی مایوس کا اظہار کیا ۔ افغان میڈیا میں بھی اشرف غنی کے ملک چھوڑ کر جانے کے عمل کو بزدلانہ قرار دیا جا رہا ہے۔ افغان نشراتی ادارے ‘طلوع’ کے مالک سعد محسنی کا کہنا ہے کہ غنی نے ہمیں دھوکا دیا ہے۔
عالمی امور پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ اشرف غنی مشکل اور کٹھن حالات میں ملک کی قیادت کرنے کے لیے ناموزوں امیدوار تھے۔ ان کے غیر لچکدار رویے، ضد اور انا کی وجہ سے نظام حکومت اور فوج مضبوط و مستحکم ہونے کے بجائے افراتفری کا شکار ہوئی۔

واضح رہے کہ 72 سالہ اشرف غنی ماہر معاشیات ہیں اور بیرون ملک معاشیات پڑھاتے رہے ہیں، کچھ عرصے ورلڈ بینک سے بھی منسلک رہے ہیں۔ 2002 میں کابل آئے اور 2004 میں وزیر خزانہ بنے تو یہی قیاس کیا جا رہا تھا کہ وہ خراب معیشت کو ٹریک پر لے آئیں گے تاہم کینسر کو شکست دینے والے اشرف غنی نہ معیشت کا علاج کرسکے اور نہ طالبان کو مات دے سکے۔

spanish flamenca dancer rides black cock.sex aunty
https://www.motphim.cc/
prmovies teen dildo wet blonde stunner does it on the hood of car.