خلیجی خطے کے استحکام کا انحصار سعودی عرب پر ہے، بحرین

بحرین کے بادشاہ نے وائٹ ہاؤس کے مشیر جیرڈ کشنر سے کہا ہے کہ خلیجی خطے کے استحکام کا انحصار سعودی عرب پر ہے۔

13 اگست کو متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے کے بعد سے جیرڈ کشنر عرب ممالک کا دورہ کر رہے ہیں اور انہیں امید ہے کہ دیگر ممالک بھی اسرائیل سے تعلقات بحال کریں گے۔

پیر کو ایک خصوصی طیارہ تل ابیب سے ابوظہبی پہنچا تھا جو اسرائیل سے متحدہ عرب امارات آنے والی پہلی کمرشل فلائٹ تھی۔

بحرین کے قریبی اتحادی سعودی عرب نے کہا تھا کہ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کا انحصار خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام پر ہے جس کا دارالحکومت یروشلم ہو۔

اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے حکام نے ابوظہبی میں ملاقات کے بعد مالی معاملات میں تعاون پر مشترکہ کمیٹی قائم کی ہے۔

خبر رساں ایجنسی ‘رائٹرز’ کے مطابق جیرڈ کُشنر نے بحرین کے بادشاہ سے ملاقات میں دیگر عرب ممالک کو بھی تجویز پیش کی کہ وہ متحدہ عرب امارات کی پیروی کریں۔

بحرین کے بادشاہ نے دوران ملاقات عربوں کے دفاع اور اسلامی مفادات کے لیے متحدہ عرب امارات کی جانب سے ادا کیے گئے کردار کی تعریف کی۔

انہوں نے مسئلہ فلسطین کے وسیع حل کے لیے بھی امارات کے کردار کی تعریف کی جس سے فلسطین کے عوام کو ان کا حق ملے گا اور خطے میں پائیدار امن کا خواب پورا ہو گا۔

اس کے علاوہ گفتگو میں 120 سال پر محیط دوطرفہ تعلقات اور 75 سال پرانے عسکری تعلقات پر بھی توجہ دی گئی۔

بحرین کے بادشاہ نے امریکا کے ساتھ تاریخی اسٹریٹیجک تعلقات کا عزم ظاہر کرتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا جس کا مقصد مشرق وسطیٰ کے خطے میں امن، استحکام اور سیکیورٹی کا قیام ہے۔

واضح رہے کہ ابھی تک کسی دوسری عرب ریاست نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا عندیہ نہیں دیا جبکہ اکثر نے موجودہ حالات میں تعلقات کی بحالی کو مسترد کردیا ہے۔

اسرائیل کے پڑوسی ممالک اردن اور مصر نے کئی دہائیوں قبل صہیونی ریاست سے امن معاہدہ کیا تھا لیکن دیگر عرب ممالک کا موقف ہے کہ تعلقات کی بحالی کے لیے ضروری ہے کہ اسرائیل پہلے فلسطینیوں کو مزید زمین دینے کی حامی بھرے۔