مشرقی بحیرہ روم میں تنازع: یورپی یونین کی ترکی کو پابندیوں کی دھمکی

یورپی یونین نے ترکی کو مشرقی بحیرہ روم میں یونان اور قبرص سے کشیدگی میں کمی تک سخت معاشی اقدامات سمیت نئی پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دے دی۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق یورپی یونین کے اعلیٰ سطح کے سفارتکار جوزف بوریل نے کہا کہ بلاک ‘مذاکرات کے لیے سنجیدہ موقع’ فراہم کرنا چاہتا ہے، لیکن اس تنازع میں اپنے رکن ممالک یونان اور قبرص کی حمایت میں ثابت قدم رہے گا۔

ترکی کے بحیرہ روم میں یونان اور قبرص کے ساتھ تنازع نے فوجی تصادم کا خطرہ بڑھا دیا ہے۔

ترک ساحلوں کے قریب چھوٹے جزیروں کو خصوصی معاشی زون قررا دینے کی یونان کی کوششوں کی ترکی مستقل مخالفت کرتا رہا ہے کیونکہ بحیرہ روم میں سب سے طویل ساحل کے حامل ملک ترکی کا ماننا ہے کہ یہ ان کے مفادات کی نفی کرتے ہیں۔

ترکی نے یہ بھی کہا ہے کہ قبرص کے قریب توانائی کے وسائل کو ترک پیٹرولیم کو لائسنس دینے والے ترک جمہوریہ شمالی قبرص (ٹی آر این سی) اور جنوبی قبرص کی یونانی قبرصی انتظامیہ کے درمیان منصفانہ طور پر مشترکہ طور پر تقسیم ہونا چاہیے۔

یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے برلن میں یونان کی حمایت کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کے بعد نیوز کانفرنس کرتے ہوئے جوزف بوریل نے کہا کہ یورپی یونین کے اقدامات کا مقصد ترکی کی متنازع پانیوں میں قدرتی گیس کی کھوج کی صلاحیت کو محدود کرنا ہے، جبکہ ان اقدامات میں افراد، بحری جہازوں اور یورپی ساحلوں کے استعمال پر پابندی شامل ہوسکتی ہے۔

انہوں نے ممکنہ پابندیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہم سیکٹرل سرگرمیوں سے متعلق اقدامات تک جاسکتے ہیں، جہاں ترکی کی معیشت کا تعلق یورپ کی معیشت سے ہے۔’

ان کا کہنا تھا کہ ‘یورپی یونین ان تمام چیزوں پر توجہ دے گا جو ان سرگرمیوں سے متعلق ہیں جنہیں ہم قانونی سمجھتے ہیں۔’

معاملہ یورپی یونین کی حدود سے باہر ہے، ترکی
دوسری جانب ترکی کی وزارت خارجہ نے کہا کہ یورپی یونین کے اس موقف کا کوئی جواز نہیں ہے اور یونان کے بحری دعوے مسترد کر دیے۔

ترک وزارت خارجہ کے ترجمان حامی اَکسوئے نے کہا کہ ‘یہ یورپی یونین کی حدود سے باہر ہے کہ وہ ہمارے اپنے براعظم کی حدود میں ہماری ہائیڈروکاربن سرگرمیوں پر تنقید کرے اور اسے روکنے کا مطالبہ کرے۔’

واضح رہے کہ چند روز قبل ترک صدر رجب طیب اردوان نے ایک تقریب میں خطاب کے دوران ترکی کے بحیرہ اسود میں قدرتی گیس کی بڑی دریافت اور یونان کے ساتھ مشرقی بحیرہ روم میں جاری تنازع کے تناظر میں بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ترکی کا کسی بھی دوسرے ملک کی سرزمین، خودمختاری یا مفادات سے کوئی لینا دینا نہیں لیکن جو کچھ ہمارا ہے، ہم اس حوالے سے کوئی رعایت نہیں برتیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ترکی ہر کسی سے درخواست کرتا ہے کہ وہ وہ ایسے غلط قدم اٹھانے سے گریز کریں جو تباہی کا سبب بنیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آج بھی بازنطینی ورثہ کے نااہل افراد یورپیو کی حمایت پر اعتماد کرتے ہوئے ناانصافی اور قزاقی حرکتوں کا ارتکاب کرتے ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ تاریخ سے سبق سیکھنے میں ناکام رہے ہیں۔

رجب طیب اردوان نے گزشتہ جمعہ کو اعلان کیا تھا کہ ترکی نے بحیرہ اسود کے ساحل سے 20 جولائی سے کھدائی کرنے والے ان کے بحری جہاز فاتح نے بعد قدرتی گیس کے 320 بلین مکعب ذخائر تلاش کرلیے ہیں۔