مائیک پومپیو کا مشرق وسطیٰ کا دورہ، عرب ریاستوں پر اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے پر زور

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اپنے مشرق وسطی کے پانچ روزہ دورے کا آغاز یروشلم سے کردیا جس کا مقصد متحدہ عرب امارات کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے والے معاہدے کے بعد دیگر عرب ریاستوں کو بھی اس معاملے پر عمل کرنے پر زور دینا شامل ہے۔

امریکی اسٹیٹس ڈپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ مائیک پومپیو اسرائیل کے وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو سے ملاقات کی اور آئندہ دنوں میں میں سوڈان، بحرین اور متحدہ عرب امارات کا بھی دورہ کریں گے۔

واشنگٹن اور اس کے قریبی اتحادی اسرائیل کو امید ہے کہ یہودی ریاست جلد ہی دیگر علاقائی ممالک جو اسرائیل کو روایتی طور پر دشمن ہیں، سے تعلقات معمول پر لے آئیں گے۔

اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا کہنا تھا کہ یروشلم میں مائیک پومپیو اور نیتن یاہو نے ‘ایران کے اثرورسوخ سے متعلق علاقائی سلامتی کے امور’ اور ‘خطے میں اسرائیل کے تعلقات کو مستحکم اور گہرا کرنے پر تبادلہ خیال کریں گے’۔

پومپیو اسرائیل کے دورے کے دوران اپنے ہم منصب گبی اشکنازی اور وزیر دفاع بینی گانٹز سے بھی ملاقات کریں گے پاور شیئرنگ معاہدے کے تحت اسرائیل کے متبادل وزیر اعظم بھی ہیں۔

اس سے قبل نیتن یاہو نے کہا تھا کہ وہ اور پومپیو اپنے خطے میں ‘امن کے دائرہ کار کو بڑھانے کے بارے پر بات کریں گے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم زیادہ سے زیادہ ممالک کے ساتھ امن پر کام کر رہے ہیں، اور مجھے لگتا ہے کہ اس میں اور بھی ممالک شامل ہوں گے اور یہ بہت دور نہیں جلد مستقبل میں ہوگا’۔

اسرائیل نے اس سے قبل صرف مصر اور اردن کے ساتھ صلح نامے پر دستخط کیے تھے جس کی سرحدیں اسرائیل سے ملتی ہیں اور یہودی ریاست کے ساتھ تکنیکی طور پر جنگ میں رہے ہیں۔

‘پرانی دشمنی’
عرب لیگ کے زیادہ تر ممبران اب بھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتے ہیں جس کی بنیاد 1948 میں رکھی گئی تھی تاہم ان میں سے کچھ نے موقف تبدیل کرنے کے اشارے دیے ہیں۔

عمان اور بحرین ان میں شامل ہیں جنہوں نے امریکا کی ثالثی میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے معاہدے کا خیر مقدم کیا تھا۔

نیتن یاہو کے حمایتی اسرائیلی اخبار ہایوم نے اتوار کے روز کہا کہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ معاہدے کے الفاظ پر براہ راست بات چیت شروع ہونے کے قریب ہے اور ‘ایک ماہ کے اندر اندر ایک مکمل معاہدہ طے پایا جاسکتا ہے’ جس پر دستخط وائٹ ہاؤس میں ہوں گے۔

13 اگست کو اعلان کردہ امریکی معاہدے کے تحت اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے کے کچھ حصوں کے انضمام کے اپنے سابقہ منصوبوں کو معطل کرنے کا وعدہ کیا تھا تاہم یہ نہیں بتایا تھا کہ ایسا وہ کب تک کرے گا۔

فلسطینیوں نے متحدہ عرب امارات کے اس اقدام کو ‘پیٹھ میں چھرا گھونپنا’ قرار دیا ہے جہاں یہودی ریاست کے ساتھ ان کا اپنا تنازع اب بھی حل طلب ہے۔

غزہ کی پٹی پر حکمرانی کرنے والے عسکریت پسند گروپ حماس نے کہا کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے معاہدے سے فلسطینیوں کے خلاف ‘جرائم اور خلاف ورزیوں کو برقرار رکھنے’ میں مدد فراہم کی گئی ہے۔

انہوں نے علاقائی اور عالمی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ غزہ کی ناکہ بندی کو ختم کرنے کے لیے اپنی خاموشی توڑے۔

واشنگٹن میں متحدہ عرب امارات کے سفیر نے اسرائیل کے اخبار میں لکھا کہ اسرائیل سے تعلقات سے ‘خطہ تنازعات کی بدصورت میراث سے آگے برھتے ہوئے امید، امن اور خوشحالی کی منزل کی طرف گامزن ہوجائیں گے’۔

بحرین، عمان، سوڈان؟
اسرائیل-اماراتی معاہدے نے اس قیاس آرائیوں کو جنم دے دیا ہے کہ اگلا کون ہوگا، اس حوالے سے بحرین اور سوڈان کا بار بار ذکر سامنے آرہا ہے۔

اسرائیل تکنیکی طور پر سوڈان کے ساتھ جنگ میں ہے جس نے برسوں سے سخت گیر عسکریت پسند قوتوں کی حمایت کی تھی۔

محکمہ خارجہ نے کہا کہ پومپیو اپنے دورے کے دوران سوڈانی وزیر اعظم عبداللہ ہمدوک سے بھی ملاقات کریں گے تاکہ ‘سوڈان-اسرائیل تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے لیے حمایت کا اظہار کریں’۔

بیان میں کہا گیا کہ مائیک پومپیو متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ عبداللہ بن زاید النہیان سے ملاقات کرنے سے پہلے بحرین کے ولی عہد شہزادہ سلمان بن حماد الخلیفہ سے بھی اسرائیل کے معاہدے پر تبادلہ خیال کریں گے۔

سعودی عرب نے عرب ریاستوں کی اکثریت کی دہائیوں پرانی پالیسی کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس وقت تک متحدہ عرب امارات کی پیروی نہیں کرے گا جب تک اسرائیل فلسطینیوں کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط نہیں کرتا۔

اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کا کہنا ہے کہ وہ تجارت کو فروغ دینا چاہتے ہیں جس میں اسرائیل کو اماراتی تیل کی فروخت اور متحدہ عرب امارات میں اسرائیلی ٹیکنالوجی، براہ راست ہوائی رابطے قائم کرنا اور سیاحت کو فروغ دینا شامل ہے۔

اس منصوبے کے لیے ضروری ہے کہ سعودی عرب اسرائیلی کمرشل ایئر لائنز کے لیے اپنی فضائی حدود کھولنے پر راضی ہو۔

امارات اور اسرائیل امن معاہدہ
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان ‘امن معاہدہ’ ہوا تھا جس کے تحت دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات بحال ہوجائیں گے۔

معاہدے کے حوالے سے رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ اسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے کے حصوں کے یکطرفہ الحاق کے اپنے منصوے کو مؤخر کردے گا تاہم بعد ازاں اسرائیلی وزیراعظم نے ایسی رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ الحاق کا منصوبہ اب بھی زیر غور ہے۔

اس معاہدے کے بارے میں امریکی صدر نے اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیلی اور متحدہ عرب امارات کے وفود آئندہ ہفتوں میں سرمایہ کاری، سیاحت، براہ راست پروازوں، سلامتی اور باہمی سفارتخانوں کے قیام سے متعلق دوطرفہ معاہدوں پر دستخط کریں گے۔

امریکی صدر نے پیش گوئی کی تھی کہ خطے کے دیگر ممالک بھی یو اے ای کے نقش قدم پر چلیں گے۔

یہ بات مدِ نظر رہے کہ اسرائیل نے مشرقی یروشلم پر 1967 کی 6 روزہ عرب اسرائیل جنگ کے دوران قبضہ کیا تھا اور بعد میں اس کا الحاق کرلیا تھا جسے بین الاقوامی برادری نے کبھی تسلیم نہیں کیا۔

اسرائیل پورے شہر کو اپنا دارالحکومت قرار دیتا ہے جبکہ فلسطینی مشرقی یروشلم کو اپنی مستقبل کی ریاست کے دارالحکومت کے طور پر دیکھتے ہیں۔

جس پر اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن مذاکرات 2014 میں ختم ہوگئے تھے جبکہ فلسطین نے ٹرمپ کی جانب سے امن منصوبے کو پیش کیے جانے سے قبل ہی مسترد کردیا تھا۔

فلسطین اور عالمی برادری اسرائیلی آبادیوں کو جنیوا کنونشن 1949 کے تحت غیر قانونی قرار دیتی ہے جو جنگ کے دوران قبضے میں لی گئی زمین سے متعلق ہے جبکہ اسرائیل بیت المقدس کو اپنا مرکز قرار دیتا ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے متعدد مرتبہ اعلان کیا تھا کہ اسرائیل کے آزاد فلسطین کے علاقوں تک توسیع اور اس کے اسرائیلی ریاست میں انضمام کے منصوبے پر یکم جولائی سے کابینہ میں بحث شروع ہوگی تاہم یہ ملتوی کردی گئی تھی۔

یاد رہے کہ فلسطینی صدر محمود عباس نے 23 اپریل کو کہا تھا کہ اگر مقبوضہ مغربی کنارے کا اسرائیل میں انضمام کیا گیا تو فلسطینی حکام کے اسرائیل اور امریکا سے ہوئے معاہدے کو مکمل طور پر منسوخ تصور کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے امریکا اور اسرائیلی حکومت سمیت متعلقہ بین الاقوامی فریقین کو آگاہ کردیا کہ اگر اسرائیل نے ہماری زمین کے کسی حصے کا انضمام کرنے کی کوشش کی تو ہم ہاتھ باندھے نہیں کھڑے رہیں گے۔