ترکی میں ایک اور قدیم گرجا گھر مسجد میں تبدیل

ترک صدر رجب طیب اردوان نے ایک اور قدیم آرتھوڈوکس گرجا گھر، جو مسجد اور بعدازاں عجائب گھر میں تبدیل کردیا گیا تھا، کو دوبارہ مسجد میں تبدیل کرنے کا حکم دے دیا۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق یونیسکو کی جانب سے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیے گئے آیا صوفیہ کو مسجد میں تبدیل کیے جانے کے ایک ماہ بعد اب کیریے عجائب گھر کو بھی مسجد میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

مذکورہ دونوں تبدیلیاں بظاہر ترک صدر کی قدامت پسند اور قوم پرست حامیوں کی مزید حمایت حاصل کرنے کی کوشش لگتی ہیں، وہ بھی ایک ایسے وقت میں جب ترکی کو کورونا وائرس کے باعث مہنگائی کی نئی لہر اور معاشی غیر یقینی کا سامنا ہے۔

تاہم اس اقدام نے ترکی کے یونان اور آرتھوڈوکس چرچ کے ساتھ تناؤ میں اضافہ کیا اور یونان کے وزیر خارجہ نے اس فیصلے کو ترک حکومت کی جانب سے ’مذہبی افراد کے خلاف ایک اور اشتعال انگیزی‘ قرار دیا۔

تاریخی حیثیت
ہزار سالہ اس قدیم عمارت کی تاریخ آیا صوفیہ سے ملتی جلتی ہے، یہ گرجا گھر قرون وسطیٰ کا بازنطینی چرچ ہے جسے مسیحی دنیا میں خزانے کی حیثیت رکھنے والے فیصلوں کی 14ویں صدی کی پینٹنگ سے سجایا گیا ہے۔

1453 عیسوی جب عثمانوی ترکوں نے قسطنطنیہ کو فتح کیا اس کی نصف صدی بعد اسے کیریے مسجد میں بدل دیا گیا تھا۔

تاہم جنگ عظم دوم کے بعد سلطنت عثمانیہ کی گرد جھاڑنے کے لیے اور ملک کو مزید سیکیولرازم کی جانب دھکیلنے کے لیے اسے کیریے عجائب گھر میں تبدیل کردیا گیا تھا۔

بعدازاں امریکی تاریخ دانوں کے ایک گروپ نے گرجا گھر کے اصلی نقش و نگار کو بحال کرنے میں مدد دی تھی جس کے بعد اسے 1958 میں عوام کے لیے کھول دیا گیا تھا۔

ترکی کی اعلی عدالت نے گزشتہ برس نومبر میں عجائب گھر کو دوبارہ مسجد میں تبدیل کرنے کی منظوری دی تھی۔

قبل ازیں ترک عدالت نے 10 جولائی کو آیا صوفیہ کو مسجد میں تبدیل کرنے کی اجازت دی تھی جس کے بعد ترک صدر رجب طیب اردوان نے 11 جولائی کو عمارت کو مسجد میں تبدیل کرنے کی منظوری دی تھی۔

گرجا گھر سے مسجد اور پھر میوزیم کے بعد دوبارہ مسجد میں تبدیل ہونے والی عمارت میں 24 جولائی کو 86 سال بعد نہ صرف نماز جمعہ ادا کی گئی بلکہ اسی دن عمارت میں تقریباً 9 دہائیوں بعد اذان بھی دی گئی تھی۔