اسرائیل: 30 افراد پر 16 سالہ لڑکی کے ‘گینگ ریپ’ کا الزام

مشرق وسطی کے ملک اسرائیل کی پولیس نے ایک نوعمر لڑکی کی شکایت کے بعد اسے مبینہ طور پر ‘گینگ ریپ’ کا نشانہ بنانے کے الزام میں 30 میں سے 2 افراد کو گرفتار کرلیا۔

اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل نے اپنی رپورٹ میں مقامی نیوز چینلز کی خبروں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ چند دن قبل 16 سالہ لڑکی نے عسقلان شہر کی پولیس کو ‘گینگ ریپ’ کی شکایت درج کروائی تھی۔

نوجوان لڑکی نے پولیس کو بتایا کہ ایک ماہ قبل وہ اپنے مرد دوست کے ساتھ خلیج عقبہ کے ساحل پر واقع شہر ایلات چھٹیاں منانے گئی تھیں، جہاں اتفاق سے ان کی ملاقات ان کے مرد دوست کے دوستوں سے ہوئی۔

لڑکی کے مطابق ہوٹل میں ملاقات کے بعد وہ اور ان کے دوست کے سارے دوست شرابی نوشی کرنے کے لیے باہر گئے اور وہاں سے واپسی پر ہوٹل میں تمام افراد نے انہیں ‘گینگ ریپ’ کا نشانہ بنایا۔

لڑکی کی شکایت کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے تین دن قبل ایک 27 سالہ مشتبہ ملزم کو گرفتار کیا تھا، جس کے اگلے ہی دن مزید ایک ملزم کو گرفتار کیا گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ مشتبہ ملزمان نے پولیس کو بتایا کہ اگرچہ نو عمر لڑکی کے ساتھ 30 افراد کے جنسی تعلق کی بات درست ہے، تاہم یہ غلط ہے کہ انہیں ‘گینگ ریپ’ کا نشانہ بنایا گیا۔

ایک ملزم نے پولیس کو بتایا کہ لڑکی کے دعوے کے برعکس مذکورہ ہوٹل کے سی سی ٹی وی کیمرا کی ویڈیوز سے معلوم کیا جا سکتا ہے کہ وہ سارا معاملہ لڑکی کی رضامندی سے ہوا۔

ملزم نے پولیس کو بتایا کہ شراب نوشی کرنے کے بعد لڑکی نے مخمور اور مستی میں تمام 30 افراد کو باری باری سے کمرے میں بلایا اور تمام افراد ان کے ہوٹل کے کمرے کے باہر لائن لگا کر کھڑے تھے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس سارے عمل میں لڑکی کا دوست اس کی مدد کرنا چاہ رہا تھا مگر وہ بے بس تھا۔

رپورٹ کے مطابق پولیس نے گرفتار کیے گئے دونوں ملزمان پر ریپ کے الزامات لگا کر انہیں اپنی تحویل میں لے کر معاملے کی بڑے پیمانے پر تفتیش شروع کردی۔

نوعمر لڑکی کو ‘گینگ ریپ’ کا نشانہ بنائے جانے کی خبر سامنے آنے پر اسرائیل بھر میں غم و غصے کی لہر دیکھی جا رہی ہے اور ایک بار پھر ملک میں کم عمر اور نوجوان لڑکیوں کے جنسی استحصال کے خلاف آوازیں اٹھائی جا رہی ہیں۔

اسرائیل کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے، جہاں اسکول جانے والی لڑکیوں یا ان کی عمر لڑکیوں کے ساتھ ‘گینگ ریپ’ یا اجتماعی جنسی استحصال کے واقعات سب سے زیادہ پیش آتے ہیں۔

اسرائیل میں ہر 10 میں سے 9 ریپ اور جنسی استحصال کے کیسز کو ملزمان کے خلاف کارروائی کیے بغیر ہی بند کردیا جاتا ہے۔

اسرائیل میں صرف 2018 میں ہی پولیس نے 6 ہزار 220 سے زائد ریپ، جنسی استحصال، جنسی تشدد اور سیکس الزامات کی تفتیش کی تھی، تاہم ان میں سے زیادہ تر کیسز میں کسی ملزم کو سزا سنائے بغیر ہی کیسز کو بند کردیا گیا تھا۔

گزشتہ چند سال میں اسرائیل میں کم عمر لڑکیوں خصوصی طور پر 12 سے 18 سال کی عمر کی لڑکیوں کے ساتھ اسکولز و دیگر تعلیمی اداروں سمیت ہوٹلز اور تفریحی مقامات میں ریپ اور ‘گینگ ریپ’ کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔