سعودی عرب بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحال کرے، امریکا

متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کی بحالی کے معاہدے کے بعد امریکا نے مسلم دنیا کے اہم ترین ملک سعودی عرب پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحال کرے۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور وائٹ ہاؤس کے مشیر جیرڈ کشنر نے کہا ہے کہ یہ سعودی عرب کے مفاد میں ہوگا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے، جیسا کہ متحدہ عرب امارات نے کیا ہے۔

صحافیوں کو ایک ٹیلیفونک بریفنگ میں انہوں نے بتایا کہ اس سے خطے میں ان کے مشترکہ حریف ایران کے اثر و رسوخ کو بھی کم کیا جاسکے گا اور باالآخر فلسطینیوں کی مدد ہوگی۔
جیرڈ کشنر کا کہنا تھا کہ یہ سعودی عرب کے کاروبار، دفاع کے لیے بہت اچھا ہوگا اور میں واضح طور پر کہوں تو میرے خیال سے اس سے فلسطینیوں کی بھی مدد ہوگی۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے امریکی صدر کی جانب سے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کے اعلان کے بعد سے عرب دنیا کی سب سے بڑی معیشت سعودی عرب خاموش ہے۔

یہ یاد رہے کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کے نتیجے میں اسرائیل مغربی کنارے کے حصوں کے الحاق کو مؤخر کرنے پر راضی ہوا ہے، تاہم اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو یہ بھی واضح کرچکے ہیں کہ یہ منصوبہ اب بھی موجود ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد کا یہ بھی کہنا تھا کہ سعودی شاہ سلمان اور ان کے بیٹے ولی عہد محمد بن سلمان بارہا ایک آزاد فلسطینی ریاست کے خواب کا اظہار کرچکے ہیں جہاں معاشی مواقع بھی موجود ہوں۔

جیرڈ کشنر کے مطابق بنیادی طور پر انہوں نے جو کہا وہ یہ ہے کہ وہ فلسطینی لوگوں کو ایک ریاست اور معاشی مواقع کے ساتھ دیکھنا چاہتے ہیں۔

یو اے ای اور اسرائیل کے معاہدے پر خلیج تعاون ممالک (جی سی سی) میں سے بحرین اور عمان نے اس کا خیرمقدم کیا ہے جبکہ سعودی عرب، کویت اور قطر نے ابھی کوئی ردعمل نہیں کیا۔

مسلم دنیا کے اہم ملک سعودی عرب کو یہودی ریاست کو باقاعدہ طور پر تسلیم کرنے سے قبل حساس سیاسی معاملات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اسی معاملے پر جیرڈ کشنر کا کہنا تھا کہ ‘اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنا سیکیورٹی اور معاشی نقطہ نظر سے ان بہت سے ممالک کے مفاد میں ہے’۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور یو اے ای کی طرح جتنے زیادہ ممالک قریب آئیں گے یہ ایران کے لیے مشکل ہوگا۔

وائٹ ہاؤس کے مشیر کا کہنا تھا کہ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ کون لوگ ہیں جو سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدہ نہیں دیکھنا چاہتے تو اس میں سب سے پہلا مخالف ایران ہوگا۔

گزشتہ ہفتے ایرانی صدر نے یو اے ای کے فیصلے پر کہا تھا کہ یہودی ریاست کے ساتھ تعلقات معمول پر کرنے کا فیصلہ ایک ‘ بڑی غلطی’ ہے۔

مشیر وائٹ ہاؤس نے پریس بریفنگ میں یہ بھی کہا کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے معاہدے اور خطے میں امن کی کوشش کے پیش نظر امریکا کچھ وقت کے لیے اسرائیل کو انضمام کی منظوری نہیں دے گا۔

جیرڈ کشنر نے بریفنگ میں کہا کہ ‘اسرائیل نے ہمارے ساتھ اتفاق کیا ہے کہ وہ ہماری رضامندی کے بغیر قدم نہیں بڑھائے گا اور ہمارا کچھ وقت کے لیے راضی ہونے کا منصوبہ نہیں ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘اس وقت ہماری توجہ نئے امن معاہدے پر عمل درآمد پر لگی ہوئی ہے’۔

وائٹ ہاؤس کے مشیر کا کہنا تھا کہ ‘ہم حقیقی معنوں میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان زیادہ سے زیادہ تعلق چاہتے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ اسرائیل نئے تعلقات اور نئے اتحادیوں پر توجہ دے’۔زشتہ ہفتے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان ‘امن معاہدہ’ ہوا ہے جس کے تحت دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات بحال ہوجائیں گے۔

معاہدے کے مطابق اسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے کے حصوں کے یکطرفہ الحاق کے اپنے منصوے کو مؤخر کردے گا۔

اس معاہدے کے بارے میں امریکی صدر نے اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیلی اور متحدہ عرب امارات کے وفود آئندہ ہفتوں میں سرمایہ کاری، سیاحت، براہ راست پروازوں، سلامتی اور باہمی سفارتخانوں کے قیام سے متعلق دوطرفہ معاہدوں پر دستخط کریں گے۔

اس حوالے سے اسرائیل کے وزیر انٹیلی جنس نے کہا تھا کہ متحدہ عرب امارات کے بعد بحرین اور عمان بھی اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کو باضابطہ شکل دینے کے لیے اگلے خلیجی ممالک ہو سکتے ہیں