اسرائیل-امارات امن معاہدہ: حسن روحانی کی تنقید پر ابوظہبی میں ایرانی ناظم الامور کی طلبی

متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی سے متعلق معاہدے پر ایرانی صدر حسن روحانی کی تقریر پر سخت رد عمل کے لیے ابوظہبی میں ایرانی ناظم الامور کو وزارت خارجہ طلب کرلیا گیا۔

الجزیرہ کی رپورٹ میں سرکاری میڈیا کے حوالے سے بتایا گیا کہ یو اے ای نے ابو ظہبی میں ایران کے ناظم الامور کو طلب کیا۔

خیال رہے کہ حسن روحانی نے کہا تھا کہ متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کرنے کے لیے جو معاہدہ کیا وہ ایک ’بہت بڑی غلطی‘ ہے اور یہ خلیجی ریاستوں کے ساتھ غداری ہے۔

اماراتی سرکاری نیوز ایجنسی ڈبلیو اے ایم کے مطابق متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے ایرانی ناظم الامور کو طلب کیا اور ایرانی صدر کے بیان کی ’سخت الفاظ میں مذمت پر مبنی میمو‘ تھما دیا۔

متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے کہا کہ ایرانی صدر کی تقریر ’ناقابل قبول اور اشتعال انگیزی پر مبنی تھی اور اس کے خلیج میں سلامتی اور استحکام کے لیے سنگین مضمرات ہوسکتے ہیں۔

یو اے ای کی سرکاری نیوز ایجنسی ڈبلیو اے ایم کے مطابق وزارت خارجہ نے تہران میں متحدہ عرب امارات کے سفارتی مشن کی حفاظت سے متعلق تہران کو باور کرایا۔

تاہم اس حوالے سے ایرانی حکومت کی طرف سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق تہران میں مظاہرین کے چھوٹے سے گروہ نے متحدہ عرب امارات کے سفارتخانے کے سامنے جمع ہو کر اسرائیل کے ساتھ معاہدے کے خلاف احتجاج کیا۔

خیال رہے تھے کہ گزشتہ ہفتے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان ‘امن معاہدہ’ ہوا ہے جس کے تحت دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات بحال ہوجائیں گے۔

معاہدے کے مطابق اسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے کے حصوں کے یکطرفہ الحاق کے اپنے منصوے کو مؤخر کردے گا۔

اس معاہدے کے بارے میں امریکی صدر نے اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیلی اور متحدہ عرب امارات کے وفود آئندہ ہفتوں میں سرمایہ کاری، سیاحت، براہ راست پروازوں، سلامتی اور باہمی سفارتخانوں کے قیام سے متعلق دوطرفہ معاہدوں پر دستخط کریں گے۔

اس حوالے سے اسرائیل کے وزیر انٹیلی جنس نے کہا تھا کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے بعد بحرین اور عمان بھی اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کو باضابطہ شکل دینے کے لیے اگلے خلیجی ممالک ہو سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ بحرین اورعمان دونوں خلیجی ممالک نے متحدہ عرب امارات اوراسرائیل کے مابین معاہدے کی تعریف کی ہے۔

اس سے قبل رواں برس کے آغاز میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا تھا کہ ایران کسی بھی ایسی قوم کی حمایت کرے گا جو اسرائیل کی صہیونی حکومت کی مخالفت اور اس کے خلاف لڑائی کرے گی۔

یوم القدس کے موقع پر خطاب کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ فلسطینی قوم کے لیے سیاسی، فوجی اور ثقافت پر مشتمل جامع جدوجہد جاری رکھیں جب تک غاصب (اسرائیل) فلسطینی قوم کے لیے رائے شماری پر آمادہ نہ ہوجائے۔