کیا بغیر پٹریوں کے ٹرین چلنا ممکن ہے؟

پٹریوں کے بغیر ٹرین کا تصور اور سفر ادھورا ہے، پٹریوں پر دوڑتی، بل کھاتی ٹرین چاہے کسی بھی ملک کی ہو، اپنے اندر رومانویت رکھتی ہے، تاہم اب چین اس معاملے میں بھی دنیا کو حیران کرنے جارہا ہے۔

چین میں پٹریوں کے بغیر دوڑنے والی ٹرینیں کام کر رہی ہیں جو خود کار ڈرائیونگ کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ یہ ٹرین، ٹرام اور بس کا امتزاج ہے جو کسی بھی سڑک پر 500 مسافروں کے ساتھ سفر کرسکتی ہے۔ آٹونوموس ریل ریپڈ ٹرانزٹ (اے آر ٹی) نامی اس منصوبے کا آغاز سنہ 2017 میں وسطی چین کے صوبے زوزو میں ہوا تھا اور انہیں اسمارٹ بس قرار دیا گیا۔

یہ گائیڈڈ بسیں ٹرین، ٹرام اور بس کے درمیان کی سواری ہے، جس میں ربڑ کے ٹائرز ہیں اور یہ 70 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرسکتی ہیں۔ مکمل چارج پر یہ بس نما ٹرین 40 کلومیٹر کا سفر کرتی ہے جس کی لمبائی 30 میٹر ہے۔ اس میں 3 سے 5 بوگیاں ہوتی ہیں اور ہر بوگی میں 100 مسافر سفر کرسکتے ہیں، یہ ٹرین خودکار سفر کرسکتی ہے مگر ڈرائیور بھی اسے اپنی مرضی سے چلاسکتے ہیں۔

اس میں موجود ایک سنسر سسٹم ڈرائیورز کو ٹرینیں ورچوئل لین میں رکھنے پر مدد فراہم کرتا ہے اور اگر وہ راستے سے ہٹ جائے تو ایک آٹو میٹک وارننگ سامنے آتی ہے۔ اس میں سڑک پر کسی سے ٹکراؤ سے انتباہ کرنے والا سسٹم بھی ہے جو ڈرائیور کو دیگر گاڑیوں سے محفوظ رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ 2 سے 3 میل کا سفر کرنے کے لیے ٹرین کو صرف 20 سیکنڈ چارج کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ 16 میل کے سفر کے لیے 10 منٹ چارج کیا جاتا ہے۔