کرونا ویکسی نیشن وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ کتنا کم کرے گی؟

امریکی ماہرین نے ایک ماڈل کی پیشگوئی کی بنیاد پر کہا ہے کہ کووڈ ویکسی نیشن کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو کنٹرول کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔ امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق میں کہا گیا کہ کووڈ ویکسی نیشن کی شرح کو بڑھانا کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں کمی اور اسے کنٹرول کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

ماہرین نے اس حوالے سے ایک کمپیوٹر ماڈل تیار کیا تھا جس کی مدد سے ملک گیر سطح پر کووڈ 19 کیس کی شرح کی درست پیشگوئی کی جاسکتی ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ امریکی ریاست منی سوٹا میں ویکسی نیشن سے مثبت کیسز اور اموات کی شرح میں نمایاں فرق آیا۔

طبی جریدے مایو کلینک پروسیڈنگز میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ پیشگوئی کرنے والا کمپیوٹر ماڈل ویکسنیشن کی رفتار کی بنیاد پر مستقبل میں کیسز کی پیشگوئی کرسکتا ہے۔

اس ماڈل کے ذریعے محققین نے تخمینہ لگایا کہ اگر منی سوٹا میں اس موسم بہار میں ویکسینشن نہ ہوئی تو آئی سی یو میں 800 سے زیادہ مریض داخل ہوسکتے ہیں۔

اس تخمینے میں کرونا وائرس کی نئی اقسام کو بھی مدنظر رکھا گیا تھا اور آئی سی یو میں مریضوں کی تعداد یکم دسمبر کے مقابلے میں دوگنا بتائی گئی تھی۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ ریاست کی 75 فیصد ویکسینیشن اپریل کے ابتدا میں ہوگئی تو جولائی تک ہسپتالوں اور آئی سی یو میں زیرعلاج مریضوں کی تعداد نمایاں حد تک کم ہوجائے گی۔محققین کا کہنا تھا کہ ویکسی نیشن کی زیادہ شرح سے کووڈ کیسز اور اسپتال میں زیر علاج مریضوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر رہ جائے گی۔