دہشت گردوں کا دوبارہ منظم ہونا پاکستان کیلئے سب سے بڑی تشویش ہے، امریکی جنرل

امریکی جنرل نے خبردار کیا ہے کہ داعش اور القاعدہ جیسے گروپوں کے دہشت گردوں کا دوبارہ منظم ہونا پاکستان کے لیے سب سے بڑی تشویش ہوگی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے کمانڈر جنرل کینیتھ ایف میکینزی نے حالیہ پینٹاگون بریفنگ کے دوران خبردار کیا کہ افغانستان سے امریکا کے انخلا کے بعد القاعدہ اور داعش کے دہشت گردوں کا دوبارہ منظم ہونا سب سے بڑا خطرہ ہوگا جن پر اگر دباؤ نہ رکھا گیا تو دوبارہ وجود میں آجائیں گے، جو تمام پڑوسی ریاستوں بالخصوص پاکستان کے لیے انتہائی تشویشناک ہوگا۔سینٹ کام کے سربراہ جنرل میکینزی پاک ۔ افغان خطے میں تمام امریکی عسکری سرگرمیوں کے ذمہ دار ہیں۔

پینٹاگون کی جانب سے رواں ہفتے جاری کیے گئے ان کے بیان کے مطابق جنرل کینیتھ میکنزی نے مزید کہا کہ ان کی کمانڈ اور امریکی سفارتکار، افغانستان کے پڑوسی ممالک کے ساتھ امریکا کے انخلا کے بعد دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے لیے فوج اور طیارے تعینات کرنے کے معاہدے پر کام کر رہے ہیں۔

پاکستان اور دیگر ممالک کی داخلہ سیاست کی جانب سے واشنگٹن کو خطے میں فوجی بیس رکھنے سے روکنے کے متعلق انہوں نے کہا کہ ‘اس کا حتمی فیصلہ امریکا قومی سطح پر کرے گا۔افغانستان میں 18 سالہ جنگ کے ابتدائی سالوں کے دوران امریکا نے اپنے ڈرون مشنز کے لیے بلوچستان کی شمسی ایئرفیلڈ استعمال کی تھی۔

جنرل کینیتھ میکنزی نے کہا کہ وہ اب اس کا حل ڈھونڈ رہے ہیں کہ افغانستان میں عدم موجودگی کے باوجود امریکا کیسے علاقے میں انسداد دہشت گردی آپریشنز کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ‘میں سیکریٹری کی ہدایت پر تفصیلی منصوبہ بندی کر رہا ہوں تاکہ مختلف آپشنز سامنے لا سکوں، میں چند متبادل تجاویز کے ساتھ انہیں اس ماہ کے آخر تک دوبارہ رپورٹ پیش کروں گا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘انخلا کا مطلب یہ نہیں ہے کہ امریکا داعش، القاعدہ جیسے گروپوں یا طالبان کے رحم و کرم پر ہوگا کہ وہ جب چاہیں مسائل کھڑے کریں اور ہمارے مفادات کو خطرے میں ڈالیں’۔

سینٹ کام سربراہ نے مزید کہا کہ دہشت گردوں کا دوبارہ منظم ہونا صرف امریکا یا پاکستان کے لیے خطرہ نہیں ہے، یہ تمام جنوبی ایشیائی ممالک سے شمال تک خطرہ ہیں بلکہ میرے خیال میں یہ مغرب میں ایران کے لیے بھی خطرہ ہیں، مستحکم افغانستان میں سب کے مفادات ہیں۔