طیارے میں مسافروں کو داخل ہوتے وقت خوش آمدید کہنے کا راز کیا ہے؟

فضائی سفر کرنے والےجانتے ہیں کہ جب وہ طیارے میں داخل ہوتے ہیں تو پرواز کا خوش شکل اور خوش گفتار عملہ انھیں مٹیھی زبان میں خوش آمدید کہنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے۔ لیکن آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ طیارے کے عملے کا مقصد صرف خوش آمدید کہنا ہی نہیں ہوتا بلکہ وہ آپ کی باڈی لینگوئج دیکھ کر آپ کے بارے میں ایک اہم فیصلہ بھی کرتے ہیں۔

اس سلسلے میں امریکا سے تعلق رکھنے والی ایک ایئر ہوسٹس کیٹ کمالانی نے ایک ٹک ٹاک ویڈیو شیئر کی ہے، جس میں انھوں نے خوش آمدید کہنے کا اصل راز افشا کیا، اور اس ویڈیو کو اب تک لاکھوں بار دیکھا جا چکا ہے۔

امریکی ایئر ہوسٹس نے بتایا کہ جب مسافر طیارے میں اندر آتے ہیں تو عملہ انھیں خوش آمدید کہتے ہوئے یہ جانچنے کی کوشش کرتا ہے کہ کیا وہ کسی بھی ایمرجنسی کی حالت میں عملے کی مدد کر سکیں گے یا نہیں۔ کیٹ کمالانی نے کہا جب آپ طیارے میں داخل ہوتے ہیں تو ہمارے مسکراتے چہرے ہی دیکھ پاتے ہیں، لیکن ہماری آنکھیں آپ کو اوپر سے نیچے تک دیکھ کر جاننے کی کوشش کرتی ہیں کہ جسمانی طور پر آپ کس قابل ہیں، یعنی کیا آپ اے بی پی (ایبل باڈی پرسن ) ہیں یا نہیں، وہ افراد جو ایمرجنسی میں عملے کی مدد کر سکتے ہیں۔

اے بی پی کے اہل افراد میں فوجی اہل کار، پائلٹس، فائر فائٹر اور ڈاکٹروں کو شامل کیا جاتا ہے جو میڈیکل ایمرجنسی یا ہنگامی لینڈنگ یا کسی قسم کی سیکیورٹی صورت حال میں مدد کرسکتے ہیں۔ ایئر ہوسٹس نے یہ انکشاف بھی کیا کہ جب آپ طیارے میں اندر چلنے لگتے ہیں تو بھی فضائی عملہ اے بی پیز کی اسکیننگ کر رہا ہوتا ہے۔

کیٹ کمالانی کا کہنا تھا کہ طیارے کا عملہ مشاق ہوتا ہے، وہ کسی فرد کو دیکھ کر اس کے پیشے سے متعلق جان لیتا ہے، جب کہ کچھ مسافر خود بھی عملے کو بتا دیتے ہیں کہ میں ڈاکٹر ہوں، ضرورت پڑنے پر موجود ہوں گا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ عملے کے افراد انسانی ٹریفکنگ کی نشانیوں کو دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں، مسافروں کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہوتی ہے، اس لیے ان چیزوں کو دیکھتے ہیں جو نظر آتی ہیں۔