جوبائیڈن کا اردوان کو فون: ‘آرمینیوں کے قتل عام کو نسل کشی تسلیم کرنے کا ارادہ ہے’

واشنگٹن: امریکی صدر جوبائیڈن نے ترک ہم منصب رجب طیب اردوان سے کہا ہے کہ وہ عثمانی دور حکمرانی کے دوران آرمینیوں کے ایک ہزار 915 افراد کے قتل عام کو نسل کشی کے طور پر تسلیم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ امریکی صدر کا بیان دونوں نیٹو اتحادیوں کے درمیان پہلے ہی سے بگڑے ہوئے تعلقات کو مزید نقصان پہنچائیں گے۔

جوبائیڈن نے جنوری میں صدارتی منصب سنبھالا تھا جس کے بعد طویل انتظار تھا کہ وہ ترک ہم منصب سے بھی فون رابطہ کریں گے جیساکہ انہوں نے دیگر ممالک کے صدور سے کیا۔امریکی صدر کی جانب سے ‘یوم آرمینیائی یادگار’ سے ایک دن پہلے ترک صدر کو کال کی گئی۔

امید کی جاری تھی کہ جوبائیڈ وائٹ ہاؤس کے روایتی بیان سے ہٹ کر مؤقف اختیار کرتے ہوئے سرد تعلقات میں کمی لانے کی کوشش کریں گے۔امریکا پہلی جنگ عظیم کے دوران ہونے والے واقعات کو ‘گریٹ ایول’ کے طور پر تسلیم کرتا ہے۔

وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا کہ صدربائیڈن نے آج ترکی کے صدر کے ساتھ بات چیت کی جس میں تعاون کے شعبوں اور اختلاف رائے کو مؤثر طریقے سے سنبھالنے کے ساتھ تعمیری تعلقات میں اپنی دلچسپی کا اظہار کیا ۔

بیان میں کہا گیا کہ دونوں رہنماؤں نے اپنے تعلقات کے بارے میں بات چیت کرنے کے لیے جون میں ہونے والے نیٹو اجلاس کی سائیڈ لائنز پر ملاقات کرنے پر اتفاق کیا۔ترکی نے تسلیم کیا کہ سلطنتِ عثمانیہ میں بہت سے آرمینی باشندے پہلی جنگ عظیم کے دوران جھڑپوں میں مارے گئے تھے۔

خیال رہے کہ ہلاک ہونے والے آرمینی باشندوں کے بارے میں ترکی ہلاکتوں کی تعداد پر اختلاف رکھتا ہے اور یہ کہ ان کی منظم طریقے یا نسل کشی نہیں کی گئی۔

ترک ایوان صدر کے ایک بیان میں کہا گیا کہ صدور جوبائیڈن اور طیب اردوان نے ‘باہمی تعلقات کے اسٹریٹجک کردار اور باہمی دلچسپی کے امور پر زیادہ سے زیادہ تعاون کے لیے مل کر کام کرنے کی اہمیت’ پر اتفاق کیا ہے۔

ترکی کی طرف سے روسی ایس -400 دفاعی نظام خریدنے، شام میں انسانی حقوق اور قانونی امور کے بارے میں پالیسیوں کے اختلافات کے عاملے پر انقرہ اور واشنگٹن کے مابین تعلقات تناؤ کا شکار ہیں۔