سعودی عرب نے لبنان پر بڑی پابندی عائد کردی

سعودی حکومت نے منشیات اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے درآمدات پر پابندی عائد کردی ہے، مذکورہ پابندی صرف لبنان سے بھیجی جانے والی سبزیوں اور پھلوں پر ہوگی۔ سعودی عرب نے منشیات کی روک تھام کے لیے لبنان سے درآمد ہونے والے پھل اور سبزیوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔

لبنان سے آنے والے تمام پھلوں اور سبزیوں کی درآمدات سعودی عرب میں داخل نہیں ہو سکیں گی اور نہ ہی انہیں ہمسایہ ممالک میں ٹرانزٹ کیا جائے گا۔ سعودی عرب میں اس پابندی کا اطلاق اتوار کی صبح نو بجے سے ہو گا۔سعودی پریس ایجنسی کے مطابق لبنانی اسمگلروں کی جانب سے سعودی عرب کو نشانہ بنانے کے واقعات میں مزید اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔

سعودی عرب میں منشیات اسمگل کرنے کے لیے لبنانی مصنوعات کا سہارا لیا جاتا ہے جو یا تو سعودی مارکیٹوں میں فروخت ہونا ہوتا ہے یا پھر سعودی عرب سے گزر کہ ہمسایہ ممالک پہنچایا جاتا ہے۔

لبنانی مصنوعات میں زیادہ تر پھل اور سبزیوں کو منشیات اسمگل کرنے کا ذریعہ بنایا جاتا ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے یہ پابندی تب تک عائد رہے گی جب تک لبنانی حکومت کی جانب سے اسمگلنگ کی مںظم کارروائیوں کے خلاف ضروری اقدامات نہیں اٹھائے جاتے۔ سعودی وزارت داخلہ لبنان سے آنے والی دیگر درآمدات کی بھی نگرانی کرتی رہے گی۔

اس سلسلے میں لبنانی دفتر خارجہ کا ردعمل بھی سامنے آگیا، سعودی ذرائع ابلاغ کے مطابق لبنانی وزیر خارجہ شربل وھبہ نے کہا ہے کہ سعودی سفارتخانے نے پھلوں اور سبزیوں پر پابندی متعلق سعودی عرب کے فیصلے سے آگاہ کیا ہے۔

لبنانی وزارت خارجہ نے بیان میں کہا کہ لبنانی حکام کو اسمگلنگ کی سرگرمیاں روکنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرنے ہوں گے۔ سیکیورٹی فورس اور کسٹم حکام کو سرحدوں پر اپنی سرگرمیاں تیز کرنا ہوں گی۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ لبنان سے بھیجے جانے والے پھلوں اور سبزیوں کے ٹرکوں یا کنٹینرز کے ذریعے نشہ آور اشیا کی اسمگلنگ ملکی معیشت، کاشت کاروں اور لبنان کی ساکھ کے لیے نقصان دہ ہے۔