کرونا سے مرنے والی ڈاکٹر کا آخری پیغام سامنے آگیا

نئی دہلی : کرونا سے مرنے والی بھارت کی خاتون ڈاکٹر کا سوشل میڈیا پر دل سوز پیغام سامنے آگیا۔

بھارت کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں کرونا وائرس کی مہلک ترین وبا نے اپنے پنجے گاڑے ہوئے ہیں، اور وہاں روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں افراد وبا سے متاثر اور ہزاروں لوگ ہلاک ہورہے ہیں۔بھارتی ریاستوں میں سب سے زیادہ کیسز مہارشٹرا میں رپورٹ ہورہے ہیں، جہاں اسپتالوں میں جگہ ختم ہوچکی ہے اور مریضوں کا برا حال ہے۔

کرونا کی بگڑتی صورتحال کے باعث بھارتی ڈاکٹر پریشان، تھکن سے چور اور مایوسی کا شکار ہوچکے ہیں، لیکن حالات کی سنگینی کے باوجود کرونا کا پھیلاؤ روکنے کےلیے جدوجہد کررہے ہیں۔

گزشتہ روز ایک اور بھارتی ڈاکٹر کرونا کے باعث دم توڑ ہلاک ہوگئیں، حکام نے ڈاکٹر کی شناخت منیشا یادو کے نام سے کی ہے، جو ٹی بی کی اسپیلشٹ اور ٹی بی اسپتال کی چیف میڈیکل آفیسر تھیں۔

ڈاکٹر منیشا نے مرنے سے کچھ گھنٹے قبل فیس بک پر ایک پوسٹ شیئر کی، جس میں انہوں نے کہا کہ ‘ممکن ہے یہ میرا آخری صبخ بخیر ہو’۔ڈاکٹر منشیا نے کہا کہ ‘اس پلیٹ فارم میں آپ لوگوں سے ملاقات نہیں کرسکتی، بس اتنا یاد رکھیے گا کہ جسم مرتا ہے روح نہیں مرتی’۔

ڈاکٹر کی پوسٹ نے بھارت میں کرونا کی ابتر صورتحال کی عکاسی کی اور اسپتالوں کی حالت زار بتائی جہاں آکیسیجن سلینڈر اور اسپتالوں میں بستروں کی کمی ہے حتیٰ کہ قبرستانوں اور شمشان گھاٹوں پر بھی جگہ ختم ہوچکی ہے۔aخیال رہے کہ بھارت میں اب تک 18 ہزار ڈاکٹر کرونا کا شکار ہوچکے ہیں جس میں سے 168 ڈاکٹر ہلاک ہوچکے ہیں۔