امریکا: پولیس کی فائرنگ سے سیاہ فام نو عمر لڑکی ہلاک

واشنگٹن: امریکی ریاست اوہائیو میں پولیس نے ایک سیاہ فام نوعمر لڑکی کو چاقو سے دوسری لڑکی کے ساتھ مبینہ لڑائی کے دوران گولی مار کر ہلاک کردیا۔

مذکورہ واقعہ ایسے وقت پر پیش آیا جب چند گھنٹے قبل ہی امریکی ریاست منی ایپلیس کے ایک سفید فام پولیس افسر ڈریک چووِن کو افریقی نژاد امریکی جارج فلائیڈ کے قتل کا مجرم قرار دیا گیا۔

امریکا میں نسلی ناانصافی اور پولیس کے مظالم کے خلاف پہلے ہی غم و غصہ پایا جاتا ہے اور حالیہ واقعے کے بعد کولمبس شہر میں احتجاج شروع ہوگیا۔شہر کے پولیس چیف مائیکل ووڈز نے بتایا کہ 911 کی کال پر افسران منگل کی سہ پہر کو جائے وقوع پر پہنچے۔انہوں نے بتایا کہ 911 کال پر چاقو بردار لڑکی کے بارے میں بتایا گیا تھا۔

پولیس نے فوٹیج کا ایک حصہ افسر کے پہنے ہوئے باڈی کیمرا سے بھی جاری کیا جس میں نوعمر سیاہ فام لڑکی کو گولی ماری گئی تھی۔فرینکلِن کاؤنٹی چائلڈ سروسز نے ہلاک ہونے والی سیاہ فام کی شناخت 16 سالہ ماخیا برائنٹ کے نام سے کی۔

پولیس چیف نے کہا کہ ‘ہم نے ضروری سمجھا کہ ویڈیو کمیونٹی کے ساتھ شیئر کریں، واقعے میں غیر جانبداری کو یقینی بنائیں اور اس ضمن میں چند سوالات کے جوابات آج رات دیں گے’۔

ویڈیو میں دکھایا گیا کہ موقع پر پولیس افسران پہنچے جہاں پہلے سے چند لوگ موجود ہیں اور ایک نوعمر لڑکی بظاہر چُھری دِکھنے والی چیز کے ساتھ دوسری لڑکی سے الجھی ہوئی ہے اور اس دوران گولی چلنے کی آواز آتی ہے۔

گولی چلنے کی آواز کے ساتھ ہی لڑکی زمین پر گر جاتی ہے۔افسر ٹھوکر مار کر چُھری لڑکی سے دور کرتے ہیں۔کولمبس کے میئر اینڈریو گِنتھر نے کہا کہ لڑکی کی موت ایک ‘خوفناک، دل دہلا دینے والی صورتحال’ ہے۔

انہوں نے اسے ‘کولمبس شہر میں ایک افسوسناک دن’ قرار دیا اور متاثرہ خاندان کے لیے دعا کرنے کو کہا۔انہوں نے کہا کہ ویڈیو میں شامل افسر نے ہماری برادری کی ایک اور نوجوان لڑکی کی حفاظت کے لیے کارروائی کی۔

پولیس افسر کا نام تاحال جاری نہیں کیا گیا۔ہلاک ہونے والی نوعمر لڑکی کی والدہ پولا برائنٹ نے مقامی صحافیوں کو بتایا کہ وہ ایک بہت ہی پیار کرنے والی اور پرامن لڑکی تھی۔