امریکی کمیشن کی مذہبی آزادی کی خلاف ورزی پر بھارت کو بلیک لسٹ کرنے کی سفارش

امریکی کمیشن نے اقلیتوں سے بدترین سلوک اور مذہبی آزادی کی خلاف ورزی پر مسلسل دوسرے سال ہندوستان کو بلیک لسٹ میں ڈالنے کی سفارش کردی۔

بین الاقوامی مذہبی آزادی کے حوالے سے امریکی کمیشن کی اس سفارش پر ہندوستانی حکومت نے گزشتہ سال برہمی کا اظہار کیا تھا اور اس بات کے امکانات بہت کم ہیں کہ امریکی محکمہ خارجہ اس مشورے پر عمل درآمد کرے گا اور اپنے قریبی اتحادی بھارت کی مذمت کرے گا۔

کمیشن اپنی سفارشات پیش کرتا ہے لیکن امریکی پالیسی مرتب نہیں کرتا اور اس نے اپنی نئی سالانہ رپورٹ میں کہا کہ ہندوستان نے مذہبی آزادی کے حوالے سے منفی رجحان جاری رکھا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت نے ہندو قوم پرست پالیسیوں کو فروغ دیا جس کے نتیجے میں مذہبی آزادی کی منظم انداز میں خلاف ورزی ہوئی ہے۔

انہوں نے گزشتہ سال نئی دہلی میں مہلک فسادات کے دوران مسلمانوں کے خلاف تشدد میں پولیس کی مداخلت کے الزامات کی نشاندہی بھی کی تھی اور مودی کے زیر انتظام شہریت کے قانون پر بدستور تشویش کا اظہار کیا جہاں ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ قانون مسلمانوں کو غیر ہندوستانی قرار دیتا ہے۔

ہندوستانی حکومت مخالف آوازوں کو دبا رہی ہے اور بھارت کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش سمیت ملک بھر میں بین المذاہب شادیوں پر پابندیوں میں اضافے پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

کمیشن نے سفارش کی کہ محکمہ خارجہ ہندوستان کو ‘خاص تحفظات کے حامل ملک’ کے طور پر نامزد کرے اور اس بلیک لسٹ میں شامل کرے جس میں پاکستان، سعودی عرب اور چین شامل ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کی بلیک لسٹ میں شامل دیگر ممالک کی فہرست میں ایریٹیریا، ایران، میانمار، نائجیریا، شمالی کوریا، تاجکستان اور ترکمانستان بھی شامل ہیں اور اگر ان ممالک نے اپنی کارکردگی بہتر نہ بنائی تو ان پر پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔بھارت کے حوالے سے ان سفارشات سے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تعینات کیے گئے کمشنر جونی مور نے اختلاف کیا۔

مور نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے جس کے آئین میں مذہبی آزادی ضمانت دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا کے تمام ممالک میں سے ہندوستان کو ‘خاص تحفظات کا حامل ملک’ قرار نہیں دیا جانا چاہیے، ان کی مذہبی آزادی سب سے بڑی تاریخی نعمت ہے۔کمیشن نے محکمہ خارجہ سے درخواست کی بھارت کے ساتھ ساتھ روس، شام اور ویتنام کو بھی بلیک لسٹ میں شامل کیا جائے۔