جارج فلائیڈ قتل کیس: سابق پولیس اہلکار ڈیرک شاوین مجرم قرار

واشنگٹن: جیوری نے سیاہ فام جارج فلائیڈ قتل کیس میں سابق پولیس افسر ڈیرک شاوین کو قتل کا مجرم قرار دے دیا، جس کے بعد ڈیرک شووِن کوعدالت سے گرفتارکرلیا گیا۔

جیوری نے سیاہ فام جارج فلائیڈ قتل کیس کا فیصلہ سنادیا، فیصلے میں سابق پولیس افسر ڈیرک شاوین کو قتل کا مجرم قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پولیس اہلکارڈیرک شووِن پر قتل کے 3 الزامات ثابت ہوئے۔

جس کے بعد ڈیرک شووِن کوعدالت سےگرفتارکرلیا،سابق پولیس آفیسر ڈیرک شوون ضمانت پر رہا تھے۔جارج فلائیڈ کے خاندان نے جیوری کے فیصلے پر اظہارمسرت کیا جبکہعدالت کے باہرجمع لوگوں نے ’بلیک لائیوز میٹر‘اور’انصاف‘ کے نعرےلگائے۔

جارج فلوئیڈ کے قتل کے فیصلے سےقبل منی ایپلس میں سیکیورٹی کے انتظامات انتہائی سخت کیے گئے اور منی تین ہزار نیشنل گارڈز کو طلب کرلیا گیا تھا۔صدرجوبائیڈن او نائب صدرکاملاہیرس نے جارج فلائیڈکے اہلخانہ کو ٹیلیفون کرکے جیوری کےفیصلےپرمبارکباددی۔

یادرہے گذشتہ سال مئی میں جارج فلائیڈکو پولیس نےدوران گرفتاری قتل کردیاتھا ، جارج فلوئیڈ کی ہلاکت کے بعد ریاست منی سوٹا میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے اور شہر میں جلاؤ گھیراؤ کے واقعات بھی پیش آئے تھے۔

سیاہ فام جارج فلوئیڈ کی ہلاکت کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی، ویڈیو میں دیکھا جا سکتا تھا کہ ہاتھ پیچھے بندھے جارج فلوئیڈ زمین پر لیٹے ہوئے ہیں اور ان کی گردن پر پولیس اہلکار نے گھٹنا رکھا ہوا ہے اور جارج فلوئیڈ کہہ رہے ہیں کہ ان کو سانس لینے میں مشکل ہو رہی ہے۔