چین کی ایک اور ویکسین کے حیرت انگیز نتائج

چین کی ایک کرونا ویکسین جنوبی امریکی ملک چلی میں استعمال کیے جانے پر حیرت انگیز نتائج سامنے آئے ہیں، یہ ویکسین کووڈ 19 سے موت سے 80 فیصد تک تحفظ فراہم کرسکتی ہے۔

بین الاقوامی ویب سائٹ کے مطابق چین کی کمپنی کی تیار کردہ کرونا ویک ویکسین علامات والی بیماری سے 67 فیصد اور کووڈ 19 سے موت سے 80 فیصد تک تحفظ فراہم کرتی ہے۔ یہ بات چلی میں لاکھوں افراد پر ہونے والی ایک تحقیق میں سامنے آئی۔

جنوبی امریکی ملک چلی کی وزارت صحت نے بتایا کہ تحقیق میں ایک کروڑ سے زائد افراد کو شامل کیا گیا تھا جن میں سے 25 لاکھ کو ویکسین کی دونوں خوراکیں جبکہ 15 لاکھ کو 2 فروری سے یکم اپریل کے دوران ایک خوراک دی گئی تھی۔ ویکسین کی دوسری خوراک دینے کے 14 دن بعد بیماری کی تشخیص کو کرونا کیسز میں شمار کیا گیا تھا۔

کرونا ویک کو متعدد ممالک میں استعمال کیا جارہا ہے اور چلی کی وزارت صحت کے مطابق اس کے استعمال سے کرونا سے اسپتال میں داخلے کا خطرہ 85 فیصد، آئی سی یو میں پہنچنے کا خطرہ 89 فیصد اور موت کا امکان 80 فیصد کم ہوجاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : کیا کرونا ویکسین کی 2 خوراکیں ناکافی ہوں گی؟

یہ کسی بھی ویکسین کے حوالے سے اب تک کی سب سے بڑی تحقیق ہے، اب تک جو تحقیقی رپورٹس سامنے آئی ہیں وہ ہزاروں افراد کے ایسے محدود گروپس تک محدود ہیں جن میں ویکسینز کی افادیت اور تحفظ کی جانچ پڑتال کے لیے آزمائش کی گئی تھی۔

چلی، جنوبی امریکا میں کووڈ ویکسی نیشن میں دیگر ممالک سے آگے ہے جہاں کی 40 فیصد آبادی کو ویکسین کی ایک خوراک دی جاچکی ہے جبکہ 27 فیصد کو دونوں خوراکیں دی جاچکی ہیں۔
چلی نے سینو ویک سے آئندہ 3 سال کے دوران کرونا ویک کی 6 کروڑ خوراکیں خریدنے کا معاہدہ کیا ہے جبکہ وہاں فائزر کی تیار کردہ ویکسین کو بھی استعمال کیا جارہا ہے، تاہم 90 فیصد افراد کو کرونا ویک کا استعمال کروایا گیا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ ویکسین کے استعمال سے 70 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کے اسپتال میں داخلے کی شرح میں بہت تیزی سے کمی آئی۔ کرونا ویک کی افادیت کے حوالے سے برازیل میں رواں ماہ ہی نتائج سامنے آئے تھے جس میں بتایا گیا تھا کہ یہ کووڈ 19 کی علامات والی بیماری سے 50.7 فیصد تحفظ فراہم کرتی ہے۔

اسی طرح علاج کی ضرورت والے کیسز کی روک تھام میں 83.7 فیصد جبکہ معتدل اور سنگین کیسز کی روک تھام میں 100 فیصد مؤثر ہے۔