امریکا کے بعد نیٹو فورسز کا بھی 11ستمبر تک افغانستان سے مکمل انخلا کا اعلان

امریکا کے بعد اتحادی نیٹو فورسز نے بھی رواں سال 11 ستمبر تک افغانستان سے اپنی افواج کے مکمل انخلا کا اعلان کیا ہے۔

دو دہائیوں سے جاری امریکی تاریخ کی سب سے طویل جنگ اب اختتام کو پہنچنے والی ہے اور گزشتہ روز امریکی نے رواں سال 9/11 کی 20ویں برسی سے قبل اپنی تمام افواج کے افغانستان سے انخلا کا اعلان کیا تھا ۔

واشنگٹن کے اعلیٰ سفارتکار نے بدھ کے روز اپنے بیان میں کہا کہ افغانستان میں موجودہ نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن(نیٹو) کی زیر قیادت اتحادی فوجی دستے 11 ستمبر تک امریکی منصوبے سے ہم آہنگی کے ساتھ ملک چھوڑ دیں گے۔

نیٹو افواج میں 7 ہزار غیرامریکی اور نیٹو ممالک کی افواج کے ساتھ ساتھ آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور جیارجیا سے بھی دستے شامل ہیں اور یہ ڈھائی ہزار امریکی فوجیوں کے ساتھ مل کر افغانستان میں امن و امان کے قیام میں افغان فورسز کی مدد کرتے ہیں۔

امریکی فوجیوں کی قلیل تعداد کے باوجود تربیتی مشن میں نیٹو فورسز کا انحصار امریکی فضائی امداد، منصوبہ بندی اور قیادت پر ہی ہوتا ہے۔

امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ اینٹونی بلنکن نے برسلز میں کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ نیٹو اپنے اتحادیوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اسی طرح ہمارے ساتھ افغانستان سے انخلا کریں جیسے ہم ایک ساتھ اس سرزمین پر آئے تھے۔

بلنکن نے نیٹو ہیڈ کوارٹر میں ٹیلی ویژن پر نشر اپنے بیان میں مزید کہا کہ میں یہاں اپنے اتحادیوں اور نیٹو کے سیکریٹری جنرل کے ساتھ اس اصول کے تحت کام کرنے کے لیے آیا ہوں جس کی ہم نے ابتدا میں ہی بنیاد رکھی تھی کہ ایک ساتھ جنگ کا حصہ بنیں گے، ساتھ مل کر صورتحال کے مطابق خود کو ڈھالیں گے اور یہاں سے اکٹھا انخلا کریں گے۔

مزید پڑھیں: بائیڈن کا 9/11 کی 20ویں برسی سے قبل افغانستان سے فوجیوں کے مکمل انخلا کا فیصلہ

بلنکین نے نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینس اسٹولٹن برگ کے شانہ بشانہ گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ ہم آئندہ مہینوں میں افغانستان سے اپنی افواج کے محفوظ اور مکمل ہم آہنگی کے ساتھ انخلا پر مل کر کام کریں گے۔

نیٹو کے وزیر خارجہ اور وزیر دفاع ویڈیو کانفرنس کے ذریعے اپنے منصوبوں پر تبادلہ خیال کریں گے۔

نیٹو کے ایک سینئر سفارت کار نے خبر رساں ایجنسی رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 11 ستمبر تک افغانستان سے امریکی افواج کے افغانستان سے مکمل انخلا کے اعلان کی کسی بھی اتحادی کی جانب سے مخالفت کی توقع نہیں ہے۔