تاریخ کا سب سے بڑا فراڈ کرنے والے امریکی کا افسوس ناک انجام

نیویارک: امریکا میں تاریخ کا سب سے بڑا فراڈ کرنے والے 150 برس کے قیدی برنارڈ لارنس میڈاف 82 سال کی عمر میں قید کے دوران انتقال کر گئے۔

مشہور امریکی فنانسر برنارڈ میڈاف جون 2009 میں 64 ارب 80 کروڑ ڈالر (99 کھرب پاکستانی روپے) کے فراڈ کے جرم میں ڈیڑھ سو برس قید کی سزا سنائے جانے کے بعد نارتھ کیرولینا کے شہر بٹنر میں وفاقی جیل میں قید تھے۔

برنارڈ میڈاف کا انتقال بدھ کو ہوا، ان کے گردے ناکارہ ہو چکے تھے اور دیگر بیماریوں میں بھی مبتلا تھے۔ ان کی برکریج فرم مڈ ٹاؤن مین ہٹن ٹاور میں واقع تھی جو لپ اسٹک بلڈنگ کے نام سے جانا تھا۔

برنارڈ میڈاف نے کہا تھا کہ انھوں نے یہ فراڈ 1990 میں شروع کیا تھا لیکن پراسیکیوٹر اور کئی متاثرین کا کہنا تھا کہ یہ اس سے پہلے شروع ہوا تھا، انھوں نے سرمایہ کاروں کو تیز رفتار دگنی سالانہ آمدن کا لالچ دے کر اربوں ڈالر بٹورے تھے، ان کے فراڈ سے متاثر ہونے والے ہزاروں افراد میں خیراتی ادارے، پنشن فنڈز اور ہیج فنڈز شامل ہیں۔

جو افراد ان کے دھوکے کا شکار ہوئے ان میں مشہور لوگ بھی شامل ہیں، اداکار کیون بیکون، کائرہ سیگوک اور جان مالکووچ، بیس بال ہال آف فیم کے حامل سینڈی کوفاکس اور ہدایت کار اسٹیون اسپیل برگ سے وابستہ ایک چیریٹی بھی اس میں شامل تھی۔

نوبیل امن انعام پانے والے ایلی ویزل کی فاؤنڈیشن کو بھی اس فراڈ سے ایک کروڑ 52 لاکھ ڈالر کا خسارہ ہوا تھا، انھوں نے 2009 میں کہا تھا کہ ہم نے تو انھیں جیسے خدا سمجھ لیا تھا، ہم ان کے ہاتھ میں موجود ہر چیز پر اعتبار کرتے تھے۔

واضح رہے کہ یورپی امیگرنٹس کے گھر پرورش پانے والے برنارڈ کے جرائم کا انکشاف 2008 میں ان کے 2 بیٹوں نے کیا تھا جو اس اسکیم کا حصہ نہیں تھے، اس فراڈ سے امریکا کی سیکیوریٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی) کی خامیاں بھی سامنے آئیں۔

فراڈ سے حاصل ہونے والی رقم سے برنارڈ اور ان کی اہلیہ نے بہت سی آسائشیں حاصل کیں جن میں مین ہٹن پینٹ ہاؤس، فرنچ ولا، مہنگی گاڑیاں اور 82 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی مشترکہ دولت شامل تھی۔

جب امریکا کے ڈسٹرکٹ جج ڈینی چن نے انھیں سزا سنائی تو کمرہ عدالت میں ان کے قریبی افراد میں سے کوئی بھی موجود نہیں تھا، سزا میں نرمی کے لیے اہل خانہ، دوستوں یا حامیوں میں سے کسی نے اپیل نہیں کی، برنارڈ نے کمرہ عدالت میں متاثرین سے معافی بھی مانگی تھی۔

29 اپریل 1938 کو نیویارک میں پیدا ہونے والے برنارڈ نے عدالت کو بتایا کہ جب یہ جرم شروع ہوا تو میرا خیال تھا کہ میں اس چیز سے نکل آؤں گا، لیکن یہ ناممکن ہوگیا، میں نے جتنی زیادہ کوشش کی، خود کو اتنے گہرے گڑھے میں دھکیلتا گیا۔