روسی جدید ٹیکنالوجی کا ایک اور شاہکار، زیر آب جانے والا بحری جہاز جلد منظر عام پر ہوگا

ماسکو: روس میں ایسا بحری جہاز بنایا جارہا ہے جو غوطہ لگا کر آبدوز بھی بن سکے گا، یہ اس نوعیت کا دنیا کا پہلا بحری جہاز ہوگا جس کی قیمت نہایت کم رکھی جائے گی۔

روسی سب میرین ڈیزائنر سینٹر، روبین سینٹرل ڈیزائن بیورو (یونائیٹڈ شپ بلڈنگ کارپوریشن) غوطہ لگانے کی صلاحیت رکھنے والا دنیا کا پہلا بحری جہاز تیار کررہا ہے۔

سینٹر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ روبین ایک سب مرس ایبل گشت کرنے والا بحری جہاز پیش کرنے جا رہا ہے جس میں بیک وقت آبدوز اور پانی کی سطح پر گشت والے جہاز کی صلاحیتیں موجود ہوں گی، یہ اپنی نوعیت کا دنیا کا واحد بحری جہاز ہوگا۔

روبین نے بتایا کہ اس منصوبے کو اسٹراز کا نام دیا گیا ہے اور اسے بارڈر اور آف شور سب مرس ایبل سینٹری کے نام سے عالمی منڈی میں فروغ دیا جائے گا، اس جدید روسی پیٹرولنگ جہاز کی قیمت عالمی منڈی میں نسبتاً کم ہوگی جس کی وجہ سے یہ بحری جہاز چھوٹے بجٹ والے ممالک کی دسترس میں بھی ہوگا۔

کمپنی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اس بحری جہاز کے آپریشن کو غیر قانونی شکار اور دیگر معاشی جرائم کی روک تھام کے لیے استعمال کیا جا سکے گا، اس نوعیت کے بحری جہاز ملٹی فنکشنل ہیں اور انہیں تحفظ، ریسکیو یا بطور ریسرچ جہاز بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

اس بحری جہاز میں جدید ترین آلات نصب ہوں گے، جو انتہائی خراب موسم میں سمندری طوفان کے دوران بھی اپنے مشن کو باآسانی انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس کے علاوہ اس سب مرس ایبل بحری جہاز کو آبدوز کے طور پر جاسوسی اور دوسرے کاموں کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

بحری جہاز کا عملہ بھی دیگر جہازوں کے عملے سے مختلف اور تکنیکی مہارت پر عبور رکھتا ہوگا۔ خیال رہے کہ جوہری توانائی سے چلنے والی روایتی آبدوزوں اور سمندری ہارڈویئر بنانے میں روس کا روبین سینٹرل ڈیزائن بیورو دنیا کے اہم شراکت داروں میں شامل ہے۔