نہر سوئز میں پھنسنے والے جہاز سے متعلق بڑی خبر آگئی

قاہرہ: مصری حکام نے نہر سوئز میں پھنسنے والے بحری جہاز کو ضبط کرکے 900 ملین ڈالر جرمانہ عائد کردیا۔

ایورگرین نامی جہاز کو ایک ہفتے تک تجارتی راستہ بند رکھنے کے سبب مالی معاوضہ ادا کرنے کے لیے ضبط کیا گیا ہے۔

مصر کی عدالت نے حکم دیا ہے کہ مال بردار بحری جہاز کے جاپانی مالک، شوئی کسین کیشا نقصانات کے نتیجے میں 900 ملین ڈالر معاوضہ ادا کرے۔ اس رقم میں نہر کی بحالی اور امدادی کاموں کے اخراجات بھی شامل ہیں۔

نہر سویز کی اہمیت کیا؟ بندش سے 50 ارب ڈالر کا نقصان کیسے؟ –سوئز کینال اتھارٹی کا کہنا ہے کہ تنازع حل ہونے تک جہاز کا سامان قبضے میں لے لیا گیا ہے۔

جہاز کے مالک نے صرف اتنا کہا ہے کہ معاوضے سے متعلق انشورنس کمپنیاں اور وکلا غور کررہے ہیں۔ شوئی کسین کیشا نے اس پر مزید کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔

خیال رہے کہ دو سمندروں کو ملانے والی دنیا کی اہم بحری گزرگاہ نہر سوئز23 مارچ کو اس وقت بند ہوگئی تھی جب400 میٹر لمبا مال بردار بحری جہاز ایورگرین اس میں ترچھا کھڑا ہو کر پھنس گیا تھا جس کو چھ دن کی کوشش کے بعد واپس گہرے پانی میں لا کر نہر سے نکالا گیا۔

ایک ہفتے تک نہر سوئز بند رہنے سے اس کے دونوں اطراف بحری جہازوں کی ٹریفک جام ہو گئی تھی اور422 مال بردار جہاز بحیرہ روم اور بحیرہ احمر میں راستہ کھلنے کے انتظار میں کھڑے تھے۔