کورونا کیسز میں اضافہ: ویکسین برآمد کرنے والا ملک بھارت درآمد کرنے پر مجبور

نئی دہلی: بھارت میں کورونا وائرس کے کیسز میں غیرمعمولی اضافے کے پیش نظر ہنگامی بنیادوں پر جاپان اور مغربی ممالک کی منظور کی گئی ویکسین درآمد کی جائیں گیں۔ بہت جلد درآمد کی جانے والی ویکسین میں فائزر، جانسن اور جانسن اور ماڈرنا شامل ہیں۔

بھارت کے اس اقدام سے مقامی سطح پر ویکسین کے حفاظتی ٹرائل نہیں کیے جاسکیں گے جو منظوری سے قبل کیے جاتے ہیں۔

بھارت میں رواں دنیا کے مقابلے میں سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔اس ضمن میں واضح رہے کہ بھارت دنیا میں ویکسین تیار کرنے کی سب سے بڑی صلاحیت رکھتا ہے۔

بھارت نے لاکھوں ویکسین برآمد کی ہیں اور مختلف ریاست میں کورونا کے کیسز میں غیرمعمولی اضافے کے ساتھ ہی متعدد ریاستوں میں ویکسین کی قلت پیدا ہوگئی۔

بھارت کی جانب سے ویکسین درآمدات کا اقدام ان غریب ممالک کے لیے خطرہ ثابت ہوسکتی ہیں جنہوں نے نئی دہلی کی تیار کردہ ویکسین پر انحصار کیا۔

بھارت کی وزارت صحت نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت یا امریکا، یورپ، برطانیہ اور جاپان کی تیار کردہ ویکسینوں کو ‘بھارت میں ہنگامی طور پر استعمال کی منظوری دی جاسکتی ہے’۔انہوں نے مزید کہا کہ جس کی منظوری بعد کے کلینیکل ٹرائل کی ضرورت ہوگی۔

سینئر سرکاری صحت کے عہدیدار ونود کمار پال نے کہا کہ اگر ان میں سے کسی بھی ریگولیٹرز نے کسی ویکسین کی منظوری دے دی ہے تو اب وہ ویکسین استعمال، تیار کرنے اور بھرنے اور ختم کرنے کے لیے ملک میں لائی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ ویکسین بنانے والے فائیزر، موڈرنا، جانسن اور جانسن اور دیگر جلد سے جلد بھارت کی ضرورت پورا کرنے کے لیے تیار ہوں گے۔

دوسری جانب فائزر نے کہا کہ وہ فروری میں اپنی درخواست واپس لینے کے بعد اپنی ویکسین بھارت لانے کی طرف کام کریں گے۔واضح رہے کہ بھارت 10 کروڑ 80 لاکھ افراد کو ویکسین دی جا چکی ہے۔

علاوہ ازیں بھارت نے 5 کروڑ 46 لاکھ ویکسین فروخت کیں، ایک کروڑ شراکت دار ممالک کو بطور تحفے پیش کیں۔رواں ہفتے بھارت نے ہنگامی طور پر روس کی اسپوتنک وی ویکسین کی منظوری دی ہے۔

2 اپریل کے بعد سے دنیا کے مقابلے میں بھارت کے اندر یومیہ ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔گزشتہ ہفتے پہلی مرتبہ ایک لاکھ افراد کورونا وائرس کا شکار ہوئے۔