شام میں 2018 میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا، او پی سی ڈبلیو

دی ہیگ: کیمائی ہتھیاروں کے عالمی نگران ادارے کا کہنا ہے کہ شامی ایئر فورس نے 2018 میں قصبہ سراقب پر ایک حملے میں کیمیائی ہتھیار کلورین کا استعمال کیا۔

یہ رپورٹ تنظیم برائے کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام (او پی سی ڈبلیو) کی تحقیقاتی ٹیم کی دوسری رپورٹ ہے۔

او پی سی ڈبلیو نے ایک بیان میں تحقیقاتی اور شناختی ٹیم (آئی آئی ٹی) کا نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ‘شام کی فضائیہ کے یونٹوں نے 4 فروری 2018 کو سراقب میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا تھا’۔

اس رپورٹ پر مغربی ممالک کی جانب سے فوری رد عمل سامنے آئے، جہاں فرانس اور جرمنی نے خبردار کیا کہ ان نتائج کو بغیر جواب دیے نہیں چھوڑا جاسکتا۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ ‘کسی بھی جگہ اور کسی بھی صورت میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال ناقابل برداشت ہے اور ان کے استعمال سے عدم استحکام بھی ناقابل قبول ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ ضروری ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کرنے والے تمام افراد کی شناخت کی جائے اور اس کا احتساب کیا جائے’۔

فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں یوس لی ڈریان نے کہا کہ شام کی حکومت کی جانب کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے شواہد ‘دستاویزی اور ناقابل تلافی’ ہیں۔انہوں نے عالمی برادری سے اس معاملے پر ‘مناسب رد عمل’ دینے کا مطالبہ بھی کیا۔

ان کے جرمن ہم منصب ہائیکو ماس نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ‘ذمہ داروں کو جوابدہ ہونا چاہیے’۔

او پی سی ڈبلیو کی رپورٹ میں کہا گیا کہ اس بات کے کافی شواہد ملے ہیں کہ 4 فروری 2018 کو ٹائیگر فورسز کے زیر کنٹرول علاقے سراقب کے مشرقی حصے پر شامی فضائیہ کے ایک فوجی ہیلی کاپٹر نے کم از کم ایک سلنڈر گرایا تھا’۔

خیال رہے کہ مارچ 2020 میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ مشرق وسطیٰ کے جنگ زدہ ملک شام میں گزشتہ 9 برس کے دوران ایک لاکھ 16 ہزار شہریوں سمیت مجموعی طور پر 3 لاکھ 84 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے مطابق مارچ 2011 میں شروع ہونی والی جنگ میں ہلاک ہونے والوں میں بچوں اور خواتین کی بھی بڑی تعداد شامل ہے۔

اس سے قبل اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ نے 2017 میں اعلان کیا تھا کہ یہ تنازع ‘دوسری جنگ عظیم کے بعد انسانوں کے لیے بدترین تباہی ہے’۔

شام میں جنگ نے معیشت کو تباہ کر دیا اور ایک کروڑ 10 لاکھ سے زائد شامی باشندے گھر بار چھوڑ کر نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق جنگ میں 22 ہزار بچے اور 13 ہزار خواتین بھی جاں بحق ہوئے۔

یاد رہے کہ 2011 میں شام کے ایک قصبے سے شروع ہونے والے تنازعے نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا اور صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف مختلف گروہوں نے مسلح کارروائیوں کا آغاز کیا تھا۔

بعد ازاں مذکورہ جنگ میں نہ صرف عالمی دہشت گرد اور مسلح تنظیمیں کود پڑیں بلکہ عالمی اور علاقائی طاقتیں بھی اس جنگ کا حصہ بن گئیں، جس نے لاکھوں لوگوں کی جان لی اور کروڑوں لوگوں کو بے گھر کردیا جبکہ ملک کا انفرا اسٹکچر اور معیشت مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔