‘عالمی وبا نے انتہا پسندی کو بڑھایا، غربت کے خاتمے کی جنگ کو متاثر کیا’

واشنگٹن: ایک امریکی رپورٹ کے مطابق کووِڈ 19 نے دنیا بھر میں منفی رجحانات کو جنم دیا، قوم پرست جذبات اور شکوک و شبہات کو ہوا دی جبکہ غربت اور صنفی عدم مساوات میں کمی میں ہونے والی پیش رفت بھی روک دی۔

ایک امریکی انٹیلی جنس رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ ‘کووڈ 19 نے لچک اور موافقت کے بارے میں دیرینہ مفروضوں کو متزلزل کردیا ہے، ساتھ ہی معیشت، گورننس، جیو پولیٹکس اور ٹیکنالوجی کے بارے میں نئی غیر یقینی صورتحال پیدا کردی ہے۔’دی گلوبل ٹرینڈز (عالمی رجحانات) 2040’ کے عنوان سے یہ رپورٹ گزشتہ ہفتے جاری کی گئی تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ‘عالمی وبا کے بعد کی دنیا میں کسی ایک ریاست کا تمام خطوں پر غلبہ نہیں ہوگا لیکن امریکا اور چین کا عالمی محرکات پر سب سے زیادہ اثر و رسوخ ہوگا’۔

امریکی انٹیلی جنس تجزیہ کاروں کو یقین ہے کہ عالمی وبا نے نہ صرف دنیا کو اس کی کمزوریوں کی یاد دہانی کروائی ہے بلکہ باہمی انحصار کی اعلیٰ سطح کے موروثی خطرات کا بھی مظاہرہ کیا ہے۔

آئندہ آنے والے برسوں اور دہائیوں میں دنیا کو بیماری، موسمیاتی تبدیلیوں، نئی ٹیکنالوجی سے رکاوٹیں اور مالی بحران جیسے مزید شدید اور زبردست عالمی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔

یہ چیلنجز اکثر موجودہ نظام اور ماڈلز کی صلاحیت سے تجاوز کر کے بار بار برادریوں، ریاست اور عالمی نظام کی اپنائیت اور لچک کو آزماتے رہیں گے۔

عالمی رجحانات کی رپورٹ امریکی نیشنل انٹیلی جنس کونسل (این آئی سی) کی جانب سے ہر 4 سال بعد جاری کی جاتی ہے جس میں پالیسی بنانے والوں کو ان فوری اور طویل مدتی ممکنہ چیلنجز سے خبردار کیا جاتا ہے جن کا سامنا دنیا کو ہوسکتا ہے۔

156 صفحات پر مشتمل دستاویزات میں کہا گیا کہ عالمی وبا نے اقوام اور معاشروں میں اختلافات کو شدید کردیا ہے، سب کو یہ یاد دلایا ہے کہ وہ اب مزید مسابقتی دنیا میں داخل ہو رہے ہیں۔

ایسی دنیا جس میں معاشرے معاشی، سیاسی، نسلی اور مذہبی خطوط پر تیزی سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوں گے، وہ قائم شدہ اور نئی نمایاں شناختوں کی بنیاد پر ہم خیال گروپ بنانے کی کوشش کریں گے۔

اس دنیا میں تمام خطوں میں تمام اقسام کی ریاستیں زیادہ مربوط، زیادہ شہری اور زیادہ بااختیار آبادی کی ضروریات اور توقعات کو پورا کرنے کے لیے جدوجہد کریں گی۔امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی کو یقین ہے کہ عالمی وبا کے بعد کی دنیا میں بین الاقوامی نظام زیادہ مسابقتی ہوگا۔

دنیا تنازع کے شدید خطرے کا شکار ہوگی کیونکہ ریاستی اور غیر ریاستی عناصر طاقت کے نئے ذرائع کا استحصال کریں گے، نئے چیلنجز دیرینہ اصولوں اور اداروں کو ختم کردیں گے جنہوں نے گزشتہ دہائیوں میں کچھ استحکام فراہم کیا تھا۔