برطانوی عدالت نے نیب کیخلاف براڈ شیٹ کے حق میں نیا فیصلہ دیدیا

برطانوی عدالت نے براڈ شیٹ کے حق میں نیا حکم دیتے ہوئے فرم کو فریزنگ آرڈر (اثاثے منجمد کرنے کا حکم نامہ) براہ راست قومی احتساب بیورو (نیب) اور اٹارنی جنرل آف پاکستان کے دفاتر پہنچانے کی اجازت دے دی۔

رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں نیب کی نمائندگی کرنے والے وکلا اولین اینڈ اووری 2 ماہ سے براڈ شیٹ کو کوئی جواب نہیں دے رہے تھےجس کے سبب براڈ شیٹ کیس کے حوالے سے برطانیہ میں پاکستان کی قانونی نمائندگی نہیں رہی تھی۔

برطانوی فرم براڈ شیٹ نے ایک ملین پاؤنڈ کی بقایا رقم کے حصول کے لیے برطانیہ کی عدالت سے رابطہ کیا تھا جس پر عدالت نے براڈ شیٹ کے حق میں نیا حکم دے دیا ہے۔ خیال رہےکہ برطانوی ہائی کورٹ پہلے ہی یو بی ایل میں پاکستان کے اکاؤنٹس منجمد کرنے کے احکامات جاری کرچکی ہے، یو بی ایل تحریری طور ہر مطلع کرچکا ہے کہ حکومت پاکستان کی تقریباً ایک ملین پاؤنڈ کی رقم ضبط کی جاچکی ہے۔

اس سے قبل پاکستان دسمبر 2020 میں براڈ شیٹ کو 28ملین ڈالرکی رقم پہلے ہی ادا کرچکا ہے۔ نیا حکم نامہ ہائی کورٹ کے ماسٹر ڈویژن کے کمرشل کورٹ کی طرف سے جاری ہوا ہے، براڈ شیٹ کی درخواست پر تھرڈ پارٹی ڈیبٹ آرڈرکی سماعت 30 جولائی کو ہونا ہے۔

سربراہ براڈ شیٹ کاوے موسوی کا کہنا ہےکہ حکومت پاکستان نے ادائیگی نہ کرکے مزید اثاثے ضبط کرنے پر مجبور کیا ہے، پاکستان میں مقامی لا فرم کے توسط سے رواں ہفتے متعلقہ اداروں کو ہائی کورٹ کے احکامات مل جائیں گے۔
کاوے موسوی کا کہنا ہے کہ نیب چیئرمین اور مشیر احتساب شہزاد اقبال کی نا اہلی کی وجہ سے پاکستان کو مزید مالی نقصان اٹھانا پڑے گا۔