سعودی عرب یمن کو65ارب روپے سے زائد مالیت کا تیل دے گا

سعودی عرب یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کو بجلی گھروں اور عوامی خدمات کی حمایت کے لئے65ارب30 کروڑ روپے سے زائد مالیت کا تیل فراہم کرے گا۔ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبد العزیز نے یمن کے صدر عبد ربو منصور ہادی کیساتھ ٹیلی فون پر بات بھی کی ہے۔

یمن کو یہ گرانٹ سعودی عرب کے پروگرام’ترقی اور تعمیر نو‘ کے تحت دی جا رہی ہے۔ تیل کی کمی سے یمن میں پانی، اسپتالوں میں جنریٹر اور امدادی سامان کی فراہمی معطل ہے۔ یمن میں اس وقت80 فیصد آبادی کو مدد کی ضرورت ہے۔خیال رہے کہ ماضی میں حوثی باغی یمن کی سرزمین سے سعودی عرب کی توانائی کی تنصیبات پر ڈرون اور میزائل حملے کرتے رہے ہیں۔

گزشتہ ہفتے یمن کے صدر نے کہا تھا کہ انہوں نے حوثی تحریک کے زیر کنٹرول بحیرہ احمر کی بندرگاہ ہودیدہ میں ایندھن کے کچھ جہازوں کے داخلے کی منظوری دی ہے۔خیال رہے کہ یمن یمن کی چھ سال سے خانہ جنگی کا شکار ہے اور محتاط اندازوں کے مطابق وہاں ایک لاکھ سے زائد انسان مارے جا چکے ہیں۔

سعودی عرب نے گزشتہ ہفتے حوثی باغیوں کو جنگ بندی کی پیشکش کی تھی اور پاکستان نے بھی اس کی حمایت کی تھی۔سعودی وزیر خارجہ فيصل بن فرحان آل سعود نے کہا تھا کہ اس پیشکش میں ’اقوام متحدہ کی سرپرستی میں ملک کے تمام حصوں میں جامع جنگ بندی ہو گی۔‘یمن میں امن کے لیے پچھلے کئی منصوبے ناکام ہو چکے ہیں، جن میں گزشتہ برس سعودی عرب سے جنگ بندی کا معاہدہ بھی شامل ہے۔

اس بار سعودی عرب کچھ ایسی رعایتیں بھی پیش کی ہیں جس کا حوثی باغی طویل عرصے سے مطالبہ کر رہے ہیں۔ جن میں صنعا میں بین الاقوامی ہوائی اڈے کا کھولنا بھی شامل ہے، جو فی الحال خوثی باغیوں کے زیر کنٹرول ہے، حالانکہ سعودی زیر قیادت اتحاد اس کی فضائی حدود کو کنٹرول کرتا ہے۔

یاد رہے کہ یمن تنازع کا آغاز سنہ 2014 کے آخر میں ہوا تھا، جب حوثی باغیوں نے ملک کے بیشتر مغربی حصے پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا اور عرب ریاستوں کے سعودی زیرقیادت اتحاد نے صدر عبدربہ منصور ہادی کی حکمرانی کی بحالی کے لیے فوجی آپریشن شروع کیا تھا۔