بولیویا کی خوبصورت جھیل کچرے میں تبدیل

بولیویا کی خوبصورت جھیل پلاسٹک کچرے سے بھر گئی جو آب و ہوا کو تباہ کرنے کا باعث بن رہی ہے۔بولیویا کی جھیل “ارو ارو” حد نگاہ تک پلاسٹک کے کچرے سے بھری ہوئی ہے جس میں بڑی تعداد میں پلاسٹ کی بوتلیں اور دیگر پلاسٹک کی اشیا شامل ہیں۔خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ کچرا قریب شہر ارورو سے دریا کے راستے آیا ہے جہاں کے رہائشی اور کمپنیوں کی جانب سے اپنا کچرا وہاں پھینک دیا جاتا ہے۔

مقامی افراد کے مطابق کچرے کے نکلنے کا کہیں سے راستہ نہیں ہے اس لیے وہ گزشتہ کئی عرصے سے اس جھیل میں آکر جمع ہو رہا ہے جس کی وجہ سے جھیل کا رنگ بھی کالا اور بھورا ہو گیا ہے۔

جھیل سطح سمندر سے چار کلو میٹر بلندی کی سطح پر واقع ہے جو ماہی گیری کے لیے انتہائی مشہور ہے اور اسے فلیمنگو پرندے کی وجہ سے بھی پہنچانا جاتا تھا۔

ماہر ماحولیات کا کہنا ہے کہ پلاسٹک کے فضلے نے پانی کی شفافیت کو ختم کر دیا ہے جو جراثیموں سے بھرا پڑا ہے۔ اس کے علاوہ کمپنیوں سے زہریلا پانی بھی اس جھیل میں شامل ہو رہا ہے جو سال کے 365 دن اس میں آتا رہتا ہے اور اسی وجہ سے اب یہ جھیل تباہ ہو گئی ہے۔مقامی شخص نے بتایا کہ کبھی اس جھیل میں خوبصورت پرندے آیا کرتے تھے جنہوں نے اب فضلے کی وجہ سے یہاں کا رخ کرنا ہی چھوڑ دیا ہے۔